تل ابیب (ڈیلی اردو/اے پی/ڈی پی اے) امریکی صدر جو بائیڈن نے جو جمعہ کو سعودی عرب کا سفر کرنے والے ہیں، اس موقع پر کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے دورے کی اپنی پہلی منزل اسرائیل میں ملک کے عبوری وزیر اعظم یائر لیپیڈ سے ملاقات کی۔
Prime Minister Yair Lapid and US President Joe Biden, held a virtual meeting of the I2U2 together with the President of the United Arab Emirates, His Highness Sheikh Mohammed bin Zayed Al Nahyan, and the Prime Minister of India, Narendra Modi.
????????????????????????????????https://t.co/ISJNBveqOo pic.twitter.com/jeXnFP0CWW
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) July 14, 2022
اس ملاقات کے بعد صدر بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل کا اس خطے میں انضمام بہت اہم ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت، اسرائیل نے چار عرب ممالک کے ساتھ ‘ابراہم اکارڈز‘ نامی معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے ان کے ساتھ سفارتی تعلقات کا آغاز کیا تھا۔
PM Lapid: "Our relationship runs deep. It crosses party lines. It connects not only our governments but also our peoples.
This friendship is one of the cornerstones of Israel’s national security. It is moving – and it is certainly not taken for granted"https://t.co/chebEgC96G pic.twitter.com/aDXePAhtiu
— Prime Minister of Israel (@IsraeliPM) July 14, 2022
اسرائیل دورے کے دوران توقع ہے کہ قائدین ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کریں گے جس میں عسکری تعاون کے ساتھ ساتھ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے کےعزم پر زور دیا جائے گا۔
ایران کے خلاف اتحاد مضبوط کرنے کی کوشش
اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”ہم نے ایرانی خطرے پر تبادلہ خیال کیا۔ جوہری ایران حقیقت نہیں بنے گا۔‘‘ اسرائیلی حکام نے صدر بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے کو اس بات کی توثیق کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام بہت آگے بڑھ چکا ہے اور بائیڈن انتظامیہ کو ایران کے ساتھ سن 2015ء کے معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں کو روکنے اور اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کی جانب سے دنیا کی پانچ دیگر طاقتوں کے ہمراہ ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں یکطرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ تاہم اب ایران کے ساتھ اس معاہدے کو دوبارہ بحال کرنا بائیڈن انتظامیہ کی ایک اہم ترجیح ہے۔ لیکن امریکی انتظامیہ کے حکام تہران کی جانب سے اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد سے متعلق امکانات کے بارے میں تیزی سے مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔
بائیڈن نے اسرائیل کے چینل 12 کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے اپنے عزم کی مضبوط یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وہ ”آخری حربے کے طور پر ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔‘‘ ایران نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے جو کہ ‘ویپن گریڈ کوالٹی‘ تک پہنچنے کی بہت قریبی شرح ہے۔
مشرق وسطیٰ اور بھارت کے رہنماؤں سے ملاقات
بائیڈن اور لیپیڈ جمعرات کو بھارت اور متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں کے ساتھ بھی ایک ورچوئل سمٹ میں شرکت کر رہے ہیں۔ اس نئے اتحاد کو I2U2 کہا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت میں زراعت کے فروغ کے لیے دو بلین ڈالر کے پراجیکٹ میں مالی معاونت فراہم کرے گا۔
اسرائیل کے ساتھ امریکہ کا مشترکہ اعلامیہ اس ہفتے کے آخر میں سعودی عرب کے ساتھ بائیڈن کی ملاقات کے لیے اہم علامتی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ بائیڈن پورے خطے کو ایران کے خلاف متحد کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں بائیڈن کے دورہ سعودی عرب پر ہوں گی۔ بائیڈن کئی مرتبہ خود سعودی عرب کے انسانی حقوق کے خراب ریکارڈ پر تنقید کر چکے ہیں۔ سن 2019ء میں امریکہ کی صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران انھوں نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی عرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس دورے میں وہ جمال خاشقجی کے قتل پر دنیا بھر کی تنقید کا سامنے کرنے والے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ واضح رہے کہ ایسی کئی رپورٹس منظرعام پر آئی تھیں جن کے مطابق مبینہ طور پر اس قتل کا حکم سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دیا تھا۔