تل ابیب (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) اسرائیلی فوج کے سربراہ نے سات اکتوبر کو ہونے والے حماس کے حملوں کے تناظر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے چیف آف جنرل اسٹاف ہرزی حالوی نے سات اکتوبر کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں میں اسرائیلی فوج کی ناکامیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق حالوی کے استعفے کا اطلاق چھ مارچ سے ہوگا۔
حالوی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ یہ فیصلہ ”ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب (اسرائیلی فوج) نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ہمارے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر عمل درآمد جاری ہے۔‘‘
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی فوج کے سربراہ میجر جنرل ہرزی حالوی نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کا ملک غزہ میں اپنے تمام فوجی اہداف حاصل نہیں کرسکا۔
حالوی کے بقول، ”جنگ کے تمام مقاصد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ فوج حماس اور اس کی حکومتی صلاحیتوں کو مزید ختم کرنے، یرغمالیوں کی واپسی کو یقینی بنانے اور عسکریت پسندوں کے حملوں سے بے گھر ہونے والے اسرائیلیوں کو گھر واپس جانے کے قابل بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔‘‘
سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے جنوبی حصے میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 1200 افراد کی ہلاکت کے بعد سے متعدد اسرائیلی فوجی اہلکار استعفیٰ دے چکے ہیں۔
ان غیر معمولی حملوں میں تقریباﹰ 250 افراد کو اغوا کر کے غزہ پٹی لے جایا گیا تھا۔ یہ دہشت گردانہ حملے غزہ جنگ کی وجہ بنے تھے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق بہت سے اسرائیلیوں نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ سات اکتوبر کو سیاسی اور فوجی ناکامی کی ذمہ داری لینے میں ناکام رہے ہیں۔
وزیر اعظم اور حکومت بھی استعفیٰ دے، اپوزیشن سربراہ
اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما یائر لاپید نے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ لاپید کی طرف سے یہ مطالبہ ملکی فوجی سربراہ کی طرف سے سات اکتوبر 2023 ء کو حماس کے حملے کے تناظر میں مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یائر لاپید کا کہنا تھا کہ وہ فوجی سربراہ ہرزی حالوی کو ان کے عہدے سے مستعفی ہونے پر سلام پیش کرتے ہیں: ”اور اب وقت آگیا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی پوری تباہ کن حکومت ذمہ داری لے اور مستعفی ہو جائے۔‘‘
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائی میں آٹھ افراد ہلاک
اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے فلسطینی شہر جنین میں آج منگل کے روز ایک بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔
فوج نے اعلان کیا ہے کہ مقامی انٹیلی جنس سروس اور پولیس فورسز کے ساتھ مل کر شہر میں آئرن وال کے نام سے ایک ”انسداد دہشت گردی آپریشن‘‘ شروع کیا گیا ہے۔
فلسطینی اتھارٹی کی وزارت صحت نے بتایا کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد کم از کم آٹھ فلسطینی ہلاک اور 35 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ ایک ”بڑے پیمانے پر اور اہم فوجی آپریشن‘‘ تھا، جس کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں سلامتی کو یقینی بنانا تھا۔
جینن کو عسکریت پسند فلسطینی گروہوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، جن میں سے کچھ اسرائیل کے روایتی دشمن ایران کے ساتھ وابستہ ہیں۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی فورسز، جو کئی ہفتوں سے جنین میں عسکریت پسند فورسز کے خلاف وہاں تعینات تھیں، آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی پیچھے ہٹ گئیں۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی زمینی دستے اور اسپیشل فورسز اس آپریشن کے لیے شہر میں داخل ہوئیں اور اس سلسلے میں کئی ڈرون حملے بھی کیے گئے۔