میانمار میں جاپانی صحافی کو سات سال قید کی سزا

ینگون (ڈیلی اردو/اے پی) میانمار کی ایک فوجی عدالت نے جاپانی صحافی کوبوتا تورو کو ملکی قوانین کی خلاف ورزی پر سات سال اور اشتعال انگیزی پر اکسانے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔

جاپانی خبررساں ادارے کے مطابق دارالحکومت ینگون میں ٹریبونل نے جاپان کے صحافی کو ٹیلی مواصلات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پر سات سال اور اشتعال انگیزی پر اکسانے کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔ فیصلے کی تفصیلات تاحال نامعلوم ہیں کیونکہ یہ سماعت بند کمرے میں کی گئی اور کوبوتا کے وکیل کو حاضری کی اجازت نہیں تھی۔

 واضح رہے کہ جاپانی صحافی کوبوتا کو سلامتی حکام نے جولائی میں ینگون سے حراست میں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاحتی ویزے پر ملک میں داخل ہوا اور احتجاجی مظاہروں کی فلمبندی کی۔ جس پر انہیں امیگریشن قانون کی خلاف ورزی سمیت کئی الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دوسری جانب میانمار میں جاپانی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ صحافی کی جلد رہائی کے لیے میانمار پر زور دیتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں