بیجنگ (ڈیلی اردو) چین نے ہمسایہ ملک تائیوان کے گرد فوجی مشقیں شروع کی ہیں جو تین روز تک جاری رہیں گی۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز ے مطابق چینی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ یہ مشقیں ’تائیوان کی آزادی‘ کی خواہشمند علیحدگی پسند اور بیرونی قوتوں کے درمیان ملی بھگت اور ان کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کے خلاف ایک سخت انتباہ جاری کرنے کے لیے ہیں۔
Chinese fighter jets crossed the Taiwan Strait’s median line as China began drills around Taiwan in an angry response to President Tsai Ing-wen's meeting with Speaker of the House Kevin McCarthy https://t.co/kZBH5lIPNa pic.twitter.com/2ywXDN3RgU
— Reuters (@Reuters) April 8, 2023
چین کی پیپلز لبریشن آرمی کے مشرقی کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ’یونائیٹڈ شارپ سورڈ‘ کے نام سے موسوم یہ تین روزہ آپریشن پیر تک چلے گا۔ چین کی میری ٹائم اتھارٹی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ فوجیان کے ساحل پر براہ راست فائر مشقیں کی جائیں گی۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق فوج کے ترجمان نے کہا کہ یہ مشقیں آبنائے تائیوان کے سمندری علاقوں اور فضائی حدود میں جزیرے کے شمالی اور جنوبی ساحلوں سے دور اور جزیرے کے مشرق میں ہوں گی۔
خیال رہے کہ چین نے تائیوان کی صدر اور امریکی ایوان کے سپیکر کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد خود مختار جزیرے کی حکومت کو ایک سخت پیغام جاری کیا تھا۔
تائیوان کی صدر سائی انگ وین کی کیلیفورنیا میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر کیون میکارتھی سے ملاقات کے بعد بیجنگ نے پڑوسی ملک کے قریب سمندر میں اپنی جنگی کشتیاں بھیجی تھیں۔
خبررساں ادارے کے مطابق چین جمہوری، خود مختار تائیوان کو اپنی سرزمین کا حصہ سمجھتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ایک دن طاقت کے ذریعے اس پر قبضہ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
گزشتہ برس اگست میں سابق امریکی سپیکر نینسی پلوسی کے دورہ تائیوان کے ردعمل میں چین نے سب سے بڑی فضائی اور بحری جنگی مشقوں کا انعقاد کیا تھا۔