کمپالا (ڈیلی اردو/اے ایف پی) داعش سے منسلک عسکریت پسندوں نے مغربی یوگنڈا کے ایک اسکول پر حملے کے دوران 41 طلباء کو مار ڈالا۔ بے رحم عسکریت پسندوں نے کئی طلباء کو زندہ جلادیا جبکہ متعدد طلباء کو ذبح کردیا گیا۔
Armed rebels attacked a school in western Uganda, killing at least 41 people, mostly students, and abducting six others, Ugandan officials have said https://t.co/uI61a2BhFC pic.twitter.com/yJCYe7hEez
— CNN International (@cnni) June 17, 2023
خبر رساں ایجنسی ”اے ایف پی“ کے مطابق ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے قریب ضلع کاسی میں ایمپونڈوے میں ایک سیکنڈری اسکول پر جمعہ کی دیر رات سرحد پار سے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا۔
#UPDATE Here is the latest on an attack at a school in Uganda by militants linked to the Islamic State group:
➡️ Death toll at 41
➡️ Military in pursuit of attackers, who also abducted six people
➡️ Guns and knives were used, and dormitories set ablazehttps://t.co/sf1qTToykr pic.twitter.com/owIqNZbY8V— AFP News Agency (@AFP) June 17, 2023
تفتیش کاروں نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے ہاسٹل کو آگ لگا دی، اس دوران آگ سے بچنے کیلئے باہر آنے والے طلباء کو چھریوں سے ذبح کردیا گیا۔
یوگنڈا پیپلز ڈیفنس فورسز (یو پی ڈی ایف) کے ترجمان فیلکس کولائیگی نے ایک بیان میں کہا، ’بدقسمتی سے، 41 لاشیں دریافت ہوئی ہیں اور انہیں بویرا اسپتال کے مردہ خانے میں پہنچا دیا گیا ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ ’آٹھ طلباء زخمی ہوئے جبکہ چھ کو حملہ آور اغواء کرکے ویرنگا نیشنل پارک کی طرف لے گئے، جو ڈی آر کانگو کی سرحد سے متصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’یو پی ڈی ایف نے اغواء شدہ طالب علموں کو بچانے کے لیے مجرموں کا تعاقب شروع کردیا ہے۔‘
کیسیز کے ریذیڈنٹ کمشنر جو والسمبی نے اے ایف پی کو بتایا کہ متاثرین میں سے کم از کم 25 کے اسکول کے طالب علم ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ ’جائے وقوعہ پر پہنچنے پر اسکول کو جلتا ہوا پایا گیا، طالب علموں کی لاشیں احاطے میں پڑی ہوئی تھیں اور اسکول کی کنٹین میں ٹوٹی پھوٹی اشیاء موجود تھیں‘۔
یہ اسکول کانگو کی سرحد سے دو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے، جہاں اے ڈی ایف بنیادی طور پر سرگرم ہے اور اس پر 1990 کی دہائی سے ہزاروں شہریوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے۔
میجر جنرل ڈک اولم نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے حملہ آوروں کے پاس اسکول کے بارے میں تفصیلی معلومات تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ جانتے تھے لڑکوں اور لڑکیوں کے ہاسٹل کہاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ باغیوں نے لڑکوں کے ہاسٹل کو بند کر کے اسے آگ لگا دی۔ باغیوں نے لڑکیوں کے سیکشن کو بند نہیں کیا اور لڑکیاں باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئیں، لیکن جب وہ بچنے کے لیے بھاگیں تو انہیں چاقو سے ذبح کردیا گیا، اور دیگر کو گولیاں مار دی گئیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لاشیں جلی ہوئی تھیں جن کی شناخت ممکن نہیں تھی اور ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت سے مزید فائر پاور، اغوا کیے گئے افراد کی بازیابی کے آپریشن میں مدد کے لیے طیارے اور فوجی کارروائی کے لیے باغیوں کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
جون 1998 میں، ڈی آر کانگو کی سرحد کے قریب کیچوامبا ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ پر اے ڈی ایف کے حملے میں 80 طلباء کو ان کے ہاسٹلری میں جلا دیا گیا تھا۔ جبکہ 100 سے زائد طلباء کو اغوا کر لیا گیا تھا۔