لبنان اور اسرائیل کے مابین جنگ کا خطرہ بڑھتا ہوا

بیروت + تل ابیب (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو/اے ایف پی) اسرائیل اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مابین کشیدگی خطے میں ایک نئی جنگ کا موجب بن سکتی ہے جبکہ بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے حملوں کی وجہ سے بھی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسرائیل اور لبنانی جنگجو گروہ حزب اللہ کے مابین کشیدگی سے خطے میں ایک نئے مسلح تنازعے کا خوف پیدا ہو چکا ہے۔ عسکریت پسند حماس اور اسرائیلی دفاعی افواج کے مابین لڑائی کی وجہ سے حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے کرنا شروع کیے، جس کے جواب میں اسرائیلی دفاعی افواج ایران نواز حزب اللہ کو بھی نشانہ بنانا شروع کر چکی ہے۔

دریں اثناء یمن کے وسیع تر علاقوں پر قابض ایرانی حمایت یافتہ شیعہ حوثی جنگجو گروہ نے بھی بحیرہ احمر کے انتہائی اہم تجارتی روٹ میں لوٹ مار شروع کر رکھی ہے۔ یہ جنگجو اہم آبی راستوں سے گزرنے والے کارگو بحری جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حزب اللہ کی طرح حوثی بھی فلسطینیوں کی حمایت میں یہ پرتشدد کارروائیاں کر رہے ہیں۔

بیروت کے چالیس سالہ رہائشی نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”مجھے خوف ہے کہ حزب اللہ لبنانیوں کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دے گا، جس کا عوام سے کوئی تعلق نہیں۔ ہم جنگ کے لیے تیار بھی نہیں ہیں۔‘‘

لبنانی عوام میں ایک خوف دیکھا جا رہا ہے جبکہ ایسے لوگ جو نسبتا‌ﹰ بہتر مالی حالات میں ہیں، انہوں نے خطے میں ایک نئی جنگ کے خوف کی وجہ سے راشن ذخیرہ شروع کر دیا ہے۔ لبنان کی معیشت پہلے ہی بحران کا شکار ہے جبکہ کرنسی کی قدر گرتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے عوام میں اس طرح کی پریشانی ملکی اقتصادیات کے لیے مزید دھچکے کا باعث بنے گی۔

یہ جھڑپیں شروع کب ہوئیں؟

حزب اللہ کے جنگجوؤں نے 8 اکتوبر سے ہی اسرائیلی سرحدوں پر چھوٹے پیمانے پر حملے کرنا شروع کر دیے تھے تاہم اس مسلح تصادم کے سو دن مکمل ہونے کے بعد لبنان کی شمالی سرحدوں پر کشیدگی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔

یاد رہے کہ 7 اکتوبر کو اسرائیلی سرزمین پر حماس کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد آٹھ اکتوبر سے ہی اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ پٹی میں ان جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 188 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے 141 حزب اللہ کے ممبران ہیں۔ یہ اعداد و شمار فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جمع کیے ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے مابین جاری لڑائی کی وجہ سے خطے میں ایک نئے فوجی تنازعے کے شروع ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ امور کی ماہر کیلی پیتیلو نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ”میں یہ کہوں گی کہ یہ خطہ (مشرق وسطیٰ) ایک علاقائی تصادم کی زد میں آ چکا ہے۔‘‘

دوسری طرف جرمن اور امریکی وزرائے خارجہ بھرپور کوشش میں ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئی لڑائی شروع نہ ہو۔ دونوں سفارت کاروں نے گزشتہ ہفتے لبنان سمیت مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک کے دورے کیے اور علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔

یہ امر اہم ہے کہ لبنان میں حکومت کا اثرورسوخ بہت زیادہ نہیں۔ اس ملک میں حزب اللہ نامی تنظیم ایک اہم سیاسی و فوجی طاقت قرار دی جاتی ہے۔ امریکہ، یورپی یونین اور دیگر متعدد ممالک نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سفارتی کوششوں میں اس تنظیم کے نمائندوں سے براہ راست گفتگو نہیں ہو سکتی ہے۔

کیا حزب اللہ جنگ چھیڑ سکتی ہے؟

لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی کے پاس اتنے زیادہ اختیارت نہیں کہ وہ اکیلے ہی فیصلہ کر سکیں کہ ملک کا آئندہ لائحہ عمل کیا ہو گا۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ نامی تھنک ٹینک سے وابستہ ہائیکو ویمان نے ڈی ڈبلیو کا بتایا کہ اس تنازعے کو کس طرح حل کرنا ہے، اس کا فیصلہ حزب اللہ تنظیم ہی کرے گا۔

ہائیکو ویمان کا کہنا ہے کہ اس سب معاملے میں لبنانی حکومت اور عوام بے بس ہیں اور وہ ناظرین ہی ہو سکتے ہیں، ”حزب اللہ کے اپنے مفادات ہیں، جن کا لبنانی قومی سلامتی سے میل کھانا لازمی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ علاقائی سطح پر ایک بڑے اتحاد کا حصہ ہے، جس میں ایران اور دیگر فریقین بھی شامل ہیں۔

یووپین کونسل برائے خارجہ امور سے وابستہ کیلی کا کہنا ہے حزب اللہ اور ایران فی الحال بظاہر یہ نہیں چاہتے کہ اسرائیل کے ساتھ باقاعدہ جنگ شروع کی جائے۔ تاہم وہ قائل ہیں کہ ‘ایران کی حمایت سے حزب اللہ اور حماس کچھ ردعمل ظاہر کرنے کی تیاری میں ہیں۔ کیلی کے بقول یہ گروہ (حماس، حزب اللہ) اس دباؤ میں ہیں کہ انہیں کوئی جواب دینا ہے۔

کیلی کے بقول، ”ہمیں یہ نہیں معلوم کہ ردعمل کیا ہو گا اور کب سامنے آئے گا لیکن میرے خیال میں یہ یقینی ہے کہ ردعمل ضرور آئے گا۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں