02/February/2024

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دس دھماکے

👁️ 42 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دس دھماکے

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دس دھماکے

اسلام آباد (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) صوبہ بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں کم از کم دس بم اور دستی بموں کے حملے ہوئے ہیں، جن میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ادھر اسلام آباد نے کابل سے ٹی ٹی پی رہنماوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں علیحدگی پسند گروپوں نے مربوط حملے کیے ہیں، جن میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم چھ دیگر زخمی ہو گئے، ان میں ایک جیل وارڈن شامل ہے۔

کوئٹہ میں ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز جوابی کارروائی کررہی ہے۔

پولیس افسر کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سپنی میں فٹ پاتھ کے کنارے نصب ایک بم پھٹ گیا، جس سے ایک راہگیر ہلاک ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے ان حملوں میں کئی تھانوں اور ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر کو نشانہ بنایا، جس میں ایک پولیس افسر اور جیل وارڈن سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے۔

یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب ملک میں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے جمعرات کو پاکستان الیکشن کمیشن کی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ چند گھنٹے پہلے ہی ہوئی تھی۔

اس دوران ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز نے شورش زدہ صوبے بلوچستان میں پیر کی رات سے اب تک کالعدم علیحدگی پسند گروپ سے منسلک کم از کم 21 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔

اہم شخصیات کو قتل کی دھمکیاں

خیبر پختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے کہا ہے کہ گزشتہ دو ماہ میں صوبے میں کم از کم 15 اہم سیاسی شخصیات کو دہشت گردوں سے جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں جنوری سے اب تک دو امیدواروں کو نامعلوم افراد قتل کر چکے ہیں جس کے پیش نظر متعدد سیاسی رہنماؤں نے صوبے میں سکیورٹی انتظامات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایک پولیس افسر نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ آزاد امیدوار ریحان زیب خان کو ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنایا گیا جس کا مقصد انتخابات میں افرا تفری پھیلانا ہے۔ ریحان زیب خان باجوڑ میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔

کابل سے ٹی ٹی پی رہنماوں کی حوالگی کا مطالبہ

پاکستان نے دہشت گردی کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جمعرات کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنماؤں کی حوالگی کے لیے افغانستان سے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ”ہم افغانستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کرے، ان کی قیادت اور ان افراد کو جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں، کو پاکستان کے حوالے کرے۔”

زہرہ بلوچ کا یہ تبصرہ عسکریت پسند اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) گروپ اور القاعدہ/طالبان کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی کو پیش کی گئی 33ویں رپورٹ کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ طالبان انتظامیہ کی سرپرستی کے علاوہ، افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کو القاعدہ کی پشت پناہی حاصل ہے اور اس کے ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور مجید بریگیڈ سے بھی روابط ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C