28/November/2022

تحریک طالبان پاکستان کا سیزفائر ختم کرنے کا اعلان، مجاہدین کو ’ملک بھر میں حملوں کا حکم‘

👁️ 25 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
تحریک طالبان پاکستان کا سیزفائر ختم کرنے کا اعلان، مجاہدین کو ’ملک بھر میں حملوں کا حکم‘

تحریک طالبان پاکستان کا سیزفائر ختم کرنے کا اعلان، مجاہدین کو ’ملک بھر میں حملوں کا حکم‘

اسلام آباد (ڈیلی اردو) کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ جون میں طے پانے والی سیزفائر ختم کرتے ہوئے اپنے مجاہدین کو ملک بھر میں حملوں کا حکم دے دیا۔

ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’تحریک طالبان پاکستان کی وزارت دفاع تحریک کے تمام گروپ لیڈرز، مسئولین تحصیل اور والیان کو حکم دیا جاتا ہے کہ ملک بھر میں جہاں بھی آپ کی رسائی ہوسکتی ہے حملے کریں‘۔

https://twitter.com/ShabbirTuri/status/1597227605715218433?t=_O_x2IwBHAFRkPfLk4ezaQ&s=19

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بنوں کے ضلع لکی مروت سمیت مختلف علاقوں میں عسکری اداروں کی طرف سے مجاہدین کے خلاف مسلسل آپریشنز ہو رہے ہیں اور اقدامی حملوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو چکا ہے‘۔

پاکستان کے عوام کو مخاطب کرکے کالعدم ٹی ٹی پی نے کہا کہ ’ہم نے بارہا آپ کو خبردار کیا اور مسلسل صبر سے کام لیا تاکہ مذاکراتی عمل کم از کم ہماری طرف سے سبوتاژ نہ ہو، مگر فوج اور خفیہ ادارے باز نہ آئے اور حملے جاری رکھے‘۔

مزید بتایا گیا کہ ’اب ملک بھر میں ہمارے انتقامی حملے بھی شروع ہوں گے‘۔

دوسری جانب حکومت سیکیورٹی فورسز کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ پاکستانی حکومت کے مذاکرات گزشتہ برس اکتوبر میں شروع ہوئے تھے لیکن دسمبر میں معطل ہوگئے تھے۔

بعدازاں رواں برس مئی میں یہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے لیکن اختلاف رائے کی وجہ سے ناکامی ہوئی کیونکہ ان کا مطالبہ تھا کہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کی حیثیت ختم کردی جائے۔

مذاکرات میں ناکامی کے نتیجے میں کالعدم ٹی ٹی پی نے حملے شروع کردیے اور ستمبر میں اضافہ ہوا اور اکثر حملے خیبرپختونخوا کے اضلاع ڈیرہ اسمٰعیل خان، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں ہوئے۔

وفاقی وزارت داخلہ نے اکتوبر میں خبردار کیا کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان ایک برس سے زائد عرصے تک رہنے والے امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور ٹی ٹی پی کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے ٹی ٹی پی نے حکومت پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بنیادی مطالبات پورے کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، جس میں خیبرپختونخوا کے ساتھ سابق فاٹا کا انضمام ختم کردیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کے گرفتار اراکین کو رہا کر دیا جائے حالانکہ اس وقت مذاکرات جاری تھے۔

وزارت داخلہ نے ٹی ٹی پی کے ذیلی گروپس کی نشان دہی بھی کی تھی جو داعش سے الگ ہوگئے ہیں اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ مل رہے ہیں۔

دوسری جانب وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے رواں ماہ کے شروع میں پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ حکومت کو دہشت گرد گروپ کے ساتھ اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ ہمیں اپنے فیصلوں یا اندورنی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لینا چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہم چند چیزوں میں غلطی پر تھے اور کہیں درست تھے اور اب اپنی حکمت عملی کا جائزہ لینا چاہیے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C