16/November/2022

لکی مروت اور باجوڑ میں دو مختلف حملوں میں پولیس اہلکاروں سمیت 8 اہلکار ہلاک

👁️ 22 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
لکی مروت اور باجوڑ میں دو مختلف حملوں میں پولیس اہلکاروں سمیت 8 اہلکار ہلاک

لکی مروت اور باجوڑ میں دو مختلف حملوں میں پولیس اہلکاروں سمیت 8 اہلکار ہلاک

پشاور (ڈیلی اردو/وی او اے) صوبہ خیبرپختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور باجوڑ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر الگ الگ حملوں میں مجموعی طور پر آٹھ اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ لکی مروت میں پولیس وین پر مبینہ عسکریت پسندوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں چھ اہلکار ہلاک ہوگئے۔

لکی مروت کے ضلعی پولیس دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق واقعہ تھانہ ڈاڈیوالہ کی حدود میں پیش آیا۔ حملہ آوروں نے چوکی عباسہ خٹک کی پولیس وین کو نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں ڈیوٹی انچارج سب انسپکٹر اور ڈرائیور سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوگئے۔

واقعے کے بعد پولیس کی مزید نفری کو طلب کرلیا گیا اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ شب ضلع باجوڑ کے علاقے ہلال خیل میں سیکورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو فوجی نائیک تاج محمد اور لانس نائیک امتیاز خان ہلاک ہوئے۔ سیکویرٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران ایک شدت پسند بھی مارا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک شدت پسند سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا، شدت پسند سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں ملک بالخصوص خیبرپختونخوا میں پولیس پر ہونے والا عسکریت پسندوں کا یہ بڑا حملہ ہے۔

ادھر باجوڑ انتظامیہ میں شامل اہلکاروں اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی انوار اللہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چارجنگ کے علاقے میں مبینہ عسکریت پسندوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

کالعدم ٹی ٹی پی کا ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ٹی ٹی پی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور ہلاک پولیس اہلکاروں کے زیرِاستعمال سرکاری اسلحہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں دونوں واقعات اور اس کے نتیجے میں 10 اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

ایک روز قبل سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں لکی مروت سے ملحقہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سات مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں الزام لگایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی سے قبل اس مقام پر امریکی ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔

لکی مروت واقعے کا نوٹس

دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیرِاعلیٰ محمود خان نے لکی مروت میں پولیس موبائل پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے انسپکٹر جنرل پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

وزیرِاعلیٰ نے کہا ہے کہ واقعے میں جان سے جانے والوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

وفاقی وزیرِداخلہ رانا ثناءاللہ نے بھی لکی مروت میں پولیس وین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے چیف سیکریٹری اور آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات میں حالیہ عرصے میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ چند روز قبل افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے میں ایک پولیس تھانے پر حملے میں دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ضلعی پولیس افسر نے متعلقہ تھانے سمیت دو تھانوں کو خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی احتشام خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ خیبرپختونخوا میں رواں سال پولیس اہلکاروں، تھانوں اور چوکیوں پر حملوں میں سو سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے بقول زیادہ تر اہلکار گھات لگا کر قتل کی وارداتوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

تشدد میں اضافہ

صوبہ خیبر پختونخواہ میں حالیہ مہینوں میں تشدد کی لہر میں شدت دیکھی گئی ہے جبکہ مقامی شہری امن کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل مظاہرے بھی کرتے رہے ہیں۔

ان سرحدی علاقوں میں طالبان کے دوبارہ منظم ہونے کی اطلاعات پر مقامی عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، اسی لیے مظاہروں کے دوران حکومت اور فوج کی عدم فعالیت کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اس کی مذمت کی گئی تھی۔

تحریک طالبان پاکستان نے گزشتہ برسوں میں تشدد کے دوران اب تک تقریبا ً80,000 افراد کو ہلاک کیا ہے۔ افغانستان کے طالبان حکام کی ثالثی میں اسلام آباد کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے خاتمے کے بعد مبینہ طور پر پاکستانی طالبان اپنے اڈوں پر دوبارہ اپنی گرفت مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستانی فوج نے سن 2008 اور 2014 کے درمیان اپنی متعدد کارروائیوں کے بعد ان عسکریت پسندوں کو افغانستان کی جانب دھکیل دیا تھا۔ تاہم گزشتہ برس افغان طالبان کے ہاتھوں کابل پر قبضے کرنے بعد سے پاکستانی طالبان بھی افغان سرحد پر اپنے سابقہ مضبوط علاقوں میں دوبارہ منظم ہونے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C