بلوچستان: بولان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران بچوں سمیت 11 بلوچ خواتین ‘لاپتا’
👁️ 70 بار دیکھا گیا
بلوچستان: بولان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران بچوں سمیت 11 بلوچ خواتین ‘لاپتا’
کوئٹہ (ڈیلی اردو/وی او اے) بلوچستان میں ‘لاپتا افراد’ کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز’ نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع بولان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران کم عمر بچوں سمیت 11 خواتین ‘لاپتا’ ہو گئی ہیں۔
ٹوئٹر پر ایک خاتون کی ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں وہ بولان میں مبینہ فوجی آپریشن اور اس کے بعد خواتین کو جبری طور پر حراست میں لینے کی تفصیلات بتا رہی ہیں۔
سناز نامی خاتون کو ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ گزشتہ دنوں میری بھابیاں، بولان کے پہاڑی علاقے میں بکریاں چرانے گئیں تو وہاں ایک فوجی آپریشن شروع ہوا۔
سناز نے دعویٰ کیا کہ لاپتا ہونے والی خاتون کا نام دل بخت ہے جب کہ ان کی تین بیٹیوں کے نام در بخت، نور بخت اور عائشہ ہیں جو کہ گزشتہ چار روز سے لاپتا ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور حکومت ہماری رشتے دار خواتین کی فی الفور بازیابی کو یقینی بنائیں۔
پاکستانی فوج نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ بولان میں ایک کارروائی کے دوران کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیم کے 4 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا تھا جب کہ اس دوران فوج کے دو ایس ایس جی کمانڈو بھی جان کی بازی ہار گئے تھے۔
یہ وہ مسائل جنہیں نہ تو پریس میں جگہ ملتی ہے اور نہ ہی صحافی انہیں سوشل میڈیا پر اجاگر کرتے ہیں۔ اس خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس کی بھابھی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بولان میں ایک آپریشن کے دوران گرفتار کرکے بچوں سمت لاپتہ کر دیا ہے-#BolanOperation
pic.twitter.com/5rvIkG4S65— Kiyya Baloch (@KiyyaBaloch) November 4, 2022
‘عورت مارچ’ کی بولان میں خواتین کی مبینہ جبری گمشدگیوں کی مذمت
پاکستان میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ” عورت مارچ” نے بولان میں جاری ایک مبینہ فوجی آپریشن کے دوران خواتین کی غیر قانونی گرفتاریوں اور جبری گمشدگیوں کی مذمت کی ہے ۔
عورت مارچ کا کہنا ہے کہ اُنہیں کم از کم 11 خواتین، کم عمر لڑکیوں اور بچوں کی گمشدگی پر تشویش ہے۔
وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصر اللہ بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بولان کے علاقے میں ایک فوجی آپریشن جاری ہے اور اس وقت علاقہ محاصرے میں ہے۔
عورت مارچ اسلام آباد نے بلوچستان کے علاقہ بولان اور گردونواح میں ملٹری آپریشن کے دوران خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کی پرزور مذمت کی ہے۔
عورت مارچ کا کہنا ہے کہ سمو صومالانی، فریدہ، زرغل مری، حمیدہ مری، درِ خاتون مری، مہسو صومالانی، گل بی بی صومالانی،— Aurat March Islamabad (@Aurat_marchisb) November 4, 2022
اُن کے بقول لاپتا ہونے والوں میں سات خواتین اور چھ بچے شامل ہیں۔ لاپتا ہونے والوں میں ایک خاتون رکھیا خان کی اہلیہ ہے جن کو چار سال قبل ہرنائی سے مبینہ طور پر لاپتا کیا گیا تھا۔
فورسز نے بولان سےدل بخت کو انکے تین بچوں در بخت، نور بخت، عائشہ !
مریم کوانکےبیٹےکلیم اللہ اور سمہدا کو انکے بچوں سمیت دیگر خواتین کےساتھ حراست میں لےکر نامعلوم مقام منتقل کردیا
خواتین اور بچوں کی جبری گمشدگی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے !خواتین اور بچوں کوفوری طورپررہاکیاجائے ! pic.twitter.com/evphTwJqNH
— Nasrullah Baloch (@Nasrullah_Baloc) November 4, 2022
انہوں نے بتایا کی خواتین کی حالیہ غیر قانونی اور جبری گمشدگیوں کے بارے میں تفصیلات بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل اور پاکستان میں انسانی حقوق کےکمیشن کو فراہم کردی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ہماری ، مشیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔
ادھر بلوچستان میں انسانی حقوق کی خاتون رہنما ماہ رنگ بلوچ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ “انسداد دہشت گردی کے نام پر گزشتہ 6 روز سے بولان میں آپریشن جاری ہے اس میں اُن کے بقول بے گناہ معصوم بچوں اور خواتین کو اغوا کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن بلوچستان چیپٹر کے چیئرمین حبیب طاہر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ تاحال لاپتا ہونے والی خواتین کے لواحقین نے ان سے رابطہ نہیں کیا، اگر ان سے رابطہ کیا گیا تو اس معاملے میں عدالت سے رُجوع کریں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور شہریوں کو لاپتا کرنے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔
فوج کا یہ مؤقف رہا ہے کہ صوبے میں ملک دُشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور کسی معصوم یا بے گناہ شہری کو ہراساں نہیں کیا جاتا۔
دوسری جانب بلوچستان کے محکمہ داخلہ کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
ان کے بقول مشیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو ملک سے باہر ہیں وہ جیسے ہی وطن واپس آئیں گے تو مبینہ طور پر لاپتا ہونے والی خواتین کے لواحقین سے ملاقات کریں گے اور خواتین کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
واشنگٹن اور تہران میں بڑا بریک تھرو، امریکہ اور ایران نے حملے روکنے پر اتفاق کر لیا
30/June/2026 👁️ 325 بار دیکھا گیا
چترال، بنوں اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے مہلک حملے، کئی ہلاکتیں
30/June/2026 👁️ 171 بار دیکھا گیا
لبنان کی فوجی قیادت کی سینٹکام کمانڈر سے ملاقات، اسرائیل معاہدے کے نفاذ پر گفتگو
30/June/2026 👁️ 154 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، اہم کمانڈر سمیت چار دہشت گرد ہلاک
30/June/2026 👁️ 128 بار دیکھا گیا
افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں میں 36 افغان شہری ہلاک، طالبان کا دعویٰ
30/June/2026 👁️ 144 بار دیکھا گیا
عراق کا ایران نواز ملیشیاؤں کو آخری الٹی میٹم
30/June/2026 👁️ 239 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8869 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4646 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3487 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2487 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2249 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1932 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C