05/February/2024

بلوچستان میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے گھروں، انتخابی دفاتر پر حملے

👁️ 51 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے گھروں، انتخابی دفاتر پر حملے

بلوچستان میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے گھروں، انتخابی دفاتر پر حملے

کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عام انتخابات میں حصہ لینے والے تین مزید امیدواروں کے گھروں اور انتخابی دفاتر کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک حملہ کیچ کے علاقے تمپ میں بلوچستان اسمبلی کی نشست سے پیپلز پارٹی کے امیدوار میر اصغر رند کے گھر پر کیا گیا۔

تربت میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دستی بم کے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تربت شہر میں نامعلوم افراد نے پیپلز پارٹی کے رہنما برکت بلوچ کے گھر پر فائرنگ کی۔

تربت پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس حملے میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

تربت سے متصل ضلع پنجگور کے ہیڈکوارٹر میں نامعلوم افراد نے نیشل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی کی نشست سے امیدوار حاجی اسلام کے گھر پر دستی بم پھینکا۔ رابطہ کرنے پر پنجگور پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دستی بم کے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا-

ادھر خاران شہر میں قومی اسمبلی کی نشست سے آزاد امیدورار سردار چنگیز خان ساسولی کے انتخابی دفتر کے قریب دو زوردار دھماکہ ہوئے۔ خاران پولیس نے دونوں دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک دھماکہ دفتر کے قریب نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ دستی بم کے حملے کی وجہ سے ہوا۔ ان دھماکوں میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔

خاران سے متصل ضلع نوشکی کے ہیڈکوارٹر میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے قریب بھی زوردار دھماکہ ہوا۔ نوشکی پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ اس دھماکے میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔

حب میں پیپلز پارٹی کے انتخابی دفتر پر دستی بم حملے میں تین بچے زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق زخمیوں میں 12 سالہ راحب، 10 سالہ ثاقب اور 12 سالہ ساجد شامل ہے۔ پولیس کے مطابق زخمیوں میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جسے کراچی منتقل کردیا گیا ہے۔

مستونگ میں بھی نامعلوم افراد نے پاکستان پیپلز پارٹی کے انتخابی کیمپ پر دستی بم سے حملہ کیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

بلوچستان کے بلوچ آبادی والے مختلف علاقوں میں گذشتہ چار پانچ روز کے دوران امیدواروں کے گھروں اور دفاتر کے علاوہ انتخابات سے متعلق سرگرمیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان میں سے زیادہ تر حملے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے انتخابی دفاتر اور گھروں پر ہوئے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C