03/December/2022

عالمی دہشت گرد قرار دئے گئے ٹی ٹی پی کے نائب امیر ’’قاری امجد‘‘ کون ہیں؟

👁️ 35 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
عالمی دہشت گرد قرار دئے گئے ٹی ٹی پی کے نائب امیر ’’قاری امجد‘‘ کون ہیں؟

عالمی دہشت گرد قرار دئے گئے ٹی ٹی پی کے نائب امیر ’’قاری امجد‘‘ کون ہیں؟

پشاور (ڈیلی اردو/بی بی سی) امریکہ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور تنظیم کے ’شعبہ مزاحم‘ کے سربراہ قاری امجد عرف مفتی مزاحم کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ ان کے علاوہ شدت پسند تنظیم القاعدہ سے تعلق رکھنے والے تین دیگر رہنماؤں کو بھی اس فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

امریکہ محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان چاروں افراد کو ان کی اپنی اپنی دہشت گرد تنظیموں میں قائدانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ ان افراد میں قاری امجد عرف مفتی مزاحم کے علاوہ القاعدہ برصغیر کے تین رہنما اسامہ محمود، عاطف یحیی غوری اور محمد معروف شامل ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے اس ضمن میں جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کے لیے ہونے والی تمام کوششوں کو ختم کرنے کے لیے امریکہ انسداد دہشت گردی کے تمام اختیارات استمعال کرے گا۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ افغانستان کو پھر سے دہشت گردی کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے۔

یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد کالعدم نتظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس پر ’اظہار افسوس‘ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کی تنظیم پاکستان، امریکہ اور دیگر قوتوں پر واضح کر چکی ہے کہ وہ دینی اور ملی اقدار کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا کوئی خارجی ایجنڈا نہیں ہے۔

قاری امجد عرف مفتی مزاحم کون ہیں؟

امریکہ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ قاری امجد پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں اور ان کی پُرتشدد کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز پہلے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے واٹس ایپ پر ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں تنظیم کے کارکنوں سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان میں حملے شروع کر دیں۔ یہ بیان تنظیم کے ترجمان نے تنظیم کے شعبہ دفاع یا مزاحم کی طرف سے جاری کیا تھا اور بیان کے آخر میں اسے جاری کرنے والے کا نام ’مفتی مزاحم‘ لکھا گیا تھا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اگرچہ قاری امجد طالبان میں متحرک تھے مگر وہ اس گروہ میں کوئی زیادہ مقبول شخصیت نہیں ہیں۔ ’انھیں ٹی ٹی پی کا نائب امیر تعینات کیا گیا اور اس کے ایک بڑی وجہ ان کا مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق بتایا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ملٹری آپریشنز اور دیگر کارروائیوں میں مالاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے بیشتر طالبان قائدین ہلاک ہو چکے ہیں، اسی لیے ہو سکتا ہے کہ اس اہم علاقے کی نمائندگی کے لیے انھیں نائب امیر کا عہدہ دیا گیا۔

قاری امجد کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے۔

دیر سے مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ قاری امجد نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں ہی حاصل کی اور پھر دیر میں جندول کے ایک مدرسے میں دینی تعلیم کے لیے داخل ہوئے تھے۔ اُن کے والد سرکاری سکول میں استاد تھے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اہلکار نے بتایا کہ اپنی جوانی میں یعنی سال 2007-08 میں قاری امجد اس وقت طالبان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے جب اس علاقے میں شدت پسندی عروج پر تھی اور تنظیم میں شمولیت کے بعد انھوں نے شدت پسندی کی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

تاہم اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن کی وجہ سے قاری امجد سنہ 2010 میں افغانستان چلے گئے تھے اور پھر ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں کہ چند برس بعد قاری امجد واپس پاکستان اپنے علاقے میں آئے تھے تاہم کارروائی کے خوف سے وہ جلد ہی واپس افغانستان کی جانب چلے گئے تھے۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ قاری امجد کے ایک بھائی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہو گئے تھے تاہم بی بی سی اس کی باقاعدہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق منظر عام سے غائب ہونے یا دوبارہ افغانستان جانے کے بعد ان کا اپنے علاقے سے رابطہ کم رہا ہے۔

اس اقدام سے کیا فائدہ ہو گا؟

امریکی محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق اس اقدام کے بعد ان چاروں افراد کی امریکہ کی حدود میں پراپرٹی یا ان کے کسی قسم کے مالی مفادات اگر وابستہ ہیں تو اُن کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ اس فہرست میں شمولیت کے بعد تمام امریکی شہری یا ادارے ان افراد سے کسی بھی قسم کا لین دین یا کاروبار نہیں کر سکیں گے۔

تجزیہ کار مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ عام طور امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے اس نوعیت کے اقدامات کا تحریک طالبان کے قائدین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ ان کے نہ تو امریکہ میں کوئی مفادات یا پراپرٹی یا کسی قسم کے کوئی اکاؤنٹ ہوتا ہے اور نہ ہی کسی اور قسم کا مالی مفاد کہ جن پر زد آ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے طالبان تنظیم کے اندر ایسے افراد کی جن کا نام اس طرح کی فہرست میں ڈال دیا جاتا ہے، سکیورٹی بڑھا دی جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سربراہ مفتی نور ولی کا نام بھی اس فہرست میں ڈالا گیا تھا جس کے بعد ان کی سکیورٹی بڑھا دی گئی تھی اور انھوں نے عام افراد سے ملنا جلنا ترک کر دیا تھا۔

مشتاق یوسفزئی کے مطابق ایک بات یہ ہوتی ہے کہ جس کا نام اس فہرست میں آجاتا ہے تنظیم کے اندر اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

ٹی ٹی پی کی بڑھتی کارروائیاں

یاد رہے کہ ٹی ٹی پی کا پاکستان حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ گذشتہ سال افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کے بعد شروع ہوا تھا اور رواں برس جون میں طالبان نے غیر معینہ مدت تک کے لیے جنگ بندی کا اعلان کر دیا تھا۔

تاہم یہ جنگ بندی چند ماہ ہی رہی اور 28 نومبر کو کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بیان جاری کیا گیا جس میں تنظیم کے کارکنوں کو ملک بھر میں حملے کرنے کی ترغیب دی گئی۔

دو روز قبل کوئٹہ میں ٹی ٹی پی کی جانب سے کیے جانے والے ایک خودکش حملے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ جبکہ اس کے علاوہ شمالی وزیرستان، چارسدہ اور دیگر علاقوں میں بھی سکیورٹی اہلکاروں اور پولیس پر حملے کیے گئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے بھی گذشتہ روز طالبان کی بڑھتی کارروائیوں کا ذکر کیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C