افریقہ: 30 ہزار جہادی حملوں میں 77 ہزار ہلاکتیں
👁️ 408 بار دیکھا گیا
افریقہ: 30 ہزار جہادی حملوں میں 77 ہزار ہلاکتیں
نئی دہلی (ڈیلی اردو/اے ایف پی) افریقہ کے ساحل خطے میں سرگرم جہادی گروہوں نے حالیہ برسوں میں اپنے حملوں کا دائرہ دوگنا کر دیا ہے۔ ایک آزاد تنظیم کے ڈیٹا کے مطابق ان حملوں میں اب تک 77 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
القاعدہ سے وابستہ مختلف گروہ، بالخصوص اسلام اور مسلمانوں کی حمایت گروپ (جے این آئی ایم) اور اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے حملےاب تقریباً پورے مالی اور برکینا فاسو تک پھیل چکے ہیں اور مغربی نائیجر سے لے کر نائجیریا اور سینیگال کی سرحد تک سرگرم ہیں۔ حالیہ برسوں میں اپنے حملوں کا دائرہ دوگنا کر دیا ہے اور اب وہ اسپین کے رقبے سے دو گنا زیادہ علاقے میں سرگرم ہیں۔
یہ نتیجہ اے ایف پی کے چھ سالہ مطالعے سے اخذ کیا گیا ہے، جو اے سی ایل ای ڈی کے فراہم کردہ ریکارڈز پر مبنی ہے ۔ یہ ایک آزاد تنظیم ہے جو دنیا بھر میں مسلح تنازعات کے متاثرین کا ڈیٹا جمع کرتی ہے۔
ایلڈیباران تھریٹ کنسلٹنٹس کے تجزیہ کار چارلی ویرب نے خبردار کیا، ''ساحل کا سکیورٹی بحران انتہائی پیچیدہ ہے، اور اس کا کوئی فوری حل نہیں۔‘‘
تقریباً 30 ہزار حملے
اس خطے میں حملوں کی تعداد 2019 میں 1,900 سے بڑھ کر 2024 میں 5,500 سے تجاوز کر گئی۔
رواں سال، 10 اکتوبر تک، مزید 3,800 حملے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ یوں چھ برسوں میں کل حملوں کی تعداد 28,715 تک پہنچ گئی۔
القاعدہ کا اثر مغربی مالی اور جنوبی برکینا فاسو تک پھیل چکا ہے، جبکہ اسلامک اسٹیٹ مغربی نائیجر اور نائجیریا میں قدم جما چکا ہے۔
اب جہادی گروہ ایک ایسے علاقے میں سرگرم ہیں جس کا رقبہ 10 لاکھ مربع کلومیٹر یعنی اسپین کے دوگنے سائز کے برابر ہے۔
ایک دوسرا بڑا جہادی گڑھ نائجیریا کے مشرق میں جھیل چاڈ کے نزدیک ہے، جہاں بوکو حرام اور اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پروونس (آئی ایس ڈبلیو اے پی) سرگرم ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق، القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کی تعداد 7,000 سے 9,000 کے درمیان ہے، جبکہ آئی ایس ڈبلیو اے پی کے 8,000 سے 12,000 کے درمیان جنگجو فعال ہیں۔
یہ گروہ متاثرہ خطوں میں نسلی اور سماجی تنازعات کا فائدہ اٹھا کر نئے افراد بھرتی کرتے ہیں، جو دنیا کے غریب ترین علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔
یہ گروہ مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے اغوا برائے تاوان، مویشیوں کی چوری، اور 'اسلامی ٹیکس‘ جیسے طریقے استعمال کرتے ہیں۔
ساحل کے سکیورٹی انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی تونکارا نے اے ایف پی کو بتایا ''کچھ افراد مخصوص آپریشنز کے لیے کرائے پر بھرتی کیے جاتے ہیں، کچھ کو مالِ غنیمت رکھنے کے وعدے پر شامل کیا جاتا ہے، اور بعض مذہبی بنیادوں پر ذہنی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔‘‘
77 ہزار ہلاکتیں
اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ سے وابستہ گروہ، جو زیادہ تر لوٹے گئے ہتھیاروں سے لیس ہیں، 2019 سے اب تک تقریباً 76,900 ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں، جن میں ان کے اپنے جنگجو بھی شامل ہیں۔
زیادہ تر اموات فوجی جھڑپوں میں ہوئیں، جبکہ 16 ہزار کے قریب شہری ان کے حملوں میں مارے گئے۔
نائجیریا میں اب تک 20 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن مالی اور برکینا فاسو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں خطے کے 56 فیصد ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ہے۔
دونوں ممالک اس وقت فوجی حکومتوں کے زیرِ اقتدار ہیں، جنہوں نے حالیہ برسوں میں فرانسیسی اور مغربی افواج کی موجودگی ختم کر دی ہے۔
تجزیہ کار ویرب کے مطابق، ان حکومتوں نے اپنی حکمتِ عملی صرف فوجی طاقت پر مرکوز رکھی، جس کے نتائج ''زیادہ سے زیادہ محدود، اور بدترین صورت میں نقصان دہ‘‘ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہادی اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ معاشی اور سماجی مسائل کو حل نہ کرنا ہے۔
دارالحکومتوں کا محاصرہ
القاعدہ سے منسلک جے این آئی ایم کے حملوں کے نقشے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ مالی اور برکینا فاسو کے دارالحکومتوں کو تنہا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ مرکزی حکومتوں پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
سن 2019 سے اب تک گروہ نے شمالی برکینا فاسو سے اپنے حملوں کا دائرہ بڑھایا ہے اور اب واگاڈوگو کو گھیرے میں لے لیا ہے، جس سے آئیوری کوسٹ، ٹوگو، اور مالی کے ساتھ رابطے خطرے میں ہیں۔
مالی کے دارالحکومت بماکو کے ارد گرد، جو چار سال پہلے نسبتاً محفوظ تھا، صرف 2025 میں 130 حملے کیے گئے، جو 2021 کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ہیں۔
اسٹریٹیجک حملے
جے این آئی ایم اب مغرب کی سمت بھی پیش قدمی کر رہا ہے، اور کایس کے علاقے میں اس سال پچھلے پانچ برسوں کے مقابلے میں زیادہ حملے ہوئے ہیں۔
یہ علاقہ، جو سینیگال، موریتانیا اور گنی کی سرحدوں سے متصل ہے، مالی کے لیے غذائی اور ایندھن کی فراہمی کا اہم راستہ ہے کیونکہ ملک کی سمندر تک براہِ راست رسائی نہیں۔
جے این آئی ایم ستمبر سے مغرب سے آنے والے ان ٹینکر ٹرکوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو بماکو کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے مالی کے قومی دفترِ مصنوعاتِ پٹرولیم نے بتایا کہ ایک ماہ کی ناکہ بندی کے بعد ملک کے ایندھن کے ذخائر ختم ہونے کے قریب ہیں۔
تھِنک ٹینک ٹمبکٹو انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر بکری سامبے نے کہا، ''کایس مالی کے لیے ایک اسٹریٹیجک اقتصادی راہداری ہے، جو اسے براہِ راست ڈکار کی بندرگاہ سے جوڑتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''کایس کو نشانہ بنانا موجودہ حکومت کی صلاحیت کو کمزور کرنے کا طریقہ ہے تاکہ وہ بماکو کو مؤثر طور پر سپلائی نہ کر سکے۔‘‘
سامبے نے سینیگال اور موریتانیا کو مشورہ دیا کہ وہ ''اس خطرے کا مکمل اندازہ لگائیں‘‘۔
یکم جولائی کو سات مغربی شہروں، بشمول کایس، اور پڑوسی ممالک سے ملانے والی شاہراہوں پر مربوب حملے کیے گئے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
پنجاب میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں، 8 مبینہ دہشتگرد گرفتار، دھماکہ خیز مواد اور دستی بم برآمد
17/October/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں مسافر وین سے 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکار اغوا، تین مسافر اور ڈرائیور رہا
17/October/2026 👁️ 72 بار دیکھا گیا
قلعہ عبداللہ میں مسلح افراد نے پنکئی پولیس چوکی کی عمارت گرا دی
17/October/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
بھارت کے زیر انتظام کشمیر: کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول کے قریب فائرنگ، 2 مبینہ دہشت گرد ہلاک
17/October/2026 👁️ 48 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے ساحل کے قریب آئل ٹینکر پر راکٹ حملہ، ایک ہی علاقے میں دو واقعات رپورٹ
17/October/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
ایران سعودی عرب اور حوثی باغیوں کے درمیان تنازع کے سیاسی حل میں تعاون کے لیے تیار
17/October/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26378 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15615 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11910 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9259 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7517 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5463 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C