04/August/2026

ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی

👁️ 32 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی

ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی

واشنگٹن (ڈیلی اردو رپورٹ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہو رہے ہیں اور ان کی اولین ترجیح سفارتی حل اور معاہدہ ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام ہوئی تو ایران کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور مستقبل قریب میں مزید ملاقاتیں بھی طے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران عوامی سطح پر مذاکرات سے انکار کرتا ہے، لیکن بات چیت کا عمل جاری ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال پر امریکہ کی گہری نظر ہے اور خطے میں استحکام کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات بھی شامل ہوں گے۔

 

ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

 

بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر ایک بڑے فوجی حملے کا منصوبہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کی درخواست پر روک دیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ اگر یہ کارروائی ہوتی تو دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ امریکہ کی سب سے بڑی فوجی کارروائیوں میں سے ایک ہوتی، تاہم خطے کے ممالک کی اپیل پر سفارتی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

 

صدر ٹرمپ نے کہا، “میں لوگوں کو مارنا نہیں چاہتا، میری ترجیح معاہدہ کرنا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ہمارے کئی اتحادی بھی فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی حل کے حامی ہیں۔”

 

انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اتوار کی دوپہر سے شروع ہوں گے اور رابطے ایک طے شدہ مذاکراتی فریم ورک کے تحت ہو رہے ہیں۔

 

امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے اور ایران کے جوہری پروگرام پر بھی معاہدہ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہی بہترین راستہ ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

 

ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تہران کو کسی بھی تباہ کن کارروائی سے قبل ایک آخری موقع دینا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے لیے ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرنے کا یہ آخری موقع ہوگا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ رابطے ایران کی درخواست پر ہو رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر کئی ممالک اس سفارتی عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔

 

دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران خطے میں کشیدگی کا دائرہ وسیع نہیں کرنا چاہتا، تاہم اگر اس کی سلامتی، خودمختاری یا سرزمین کو خطرہ لاحق ہوا تو ایران اپنے دفاع کے لیے پوری طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔

 

ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن قومی سلامتی اور علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ملک کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C