18/September/2026

کوہاٹ: پولیس لائنز میں حملہ ، 21 اہلکار و شہری ہلاک،81زخمی ، 6 دہشتگرد ہلاک

👁️ 61 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کوہاٹ: پولیس لائنز میں حملہ ، 21 اہلکار و شہری ہلاک،81زخمی ، 6 دہشتگرد ہلاک

کوہاٹ: پولیس لائنز میں حملہ ، 21 اہلکار و شہری ہلاک،81زخمی ، 6 دہشتگرد ہلاک


کوہاٹ(ڈیلی اردو) خیبر پختونخوا کے شورش زدہ ضلع کوہاٹ میں اولڈ پولیس لائنز کے قریب نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے دہشتگرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہوگئی جبکہ اب تک 81 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایس پی ٹریفک، 2 انسپکٹرز اور 4 سب انسپکٹرز سمیت 15 پولیس اہلکار شامل ہیں۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے اولڈ پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی پولیس لائنز کے گیٹ سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں شدید دھماکا ہوا۔ دھماکے کے بعد فائرنگ کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا اور دیگر دہشتگردوں نے پولیس لائنز کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔

پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں میں سے بعض نے سی ٹی ڈی کی عمارت کی جانب بڑھنے کی کوشش کی جبکہ کچھ دہشتگرد اسپیشل برانچ کی عمارت کی طرف چلے گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔

پولیس کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے دوران خودکش بمبار سمیت 6 دہشتگرد ہلاک کیے گئے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مجموعی طور پر 7 دہشتگردوں نے پولیس لائنز میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔

دھماکے سے پولیس لائنز کے اندر واقع مسجد کے بیرونی حصے، عمارتوں اور قریبی ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچا۔ ایک دیوار منہدم ہوگئی جبکہ دھماکے کی شدت سے جائے وقوعہ پر گہرا گڑھا بھی پڑ گیا۔ حملے کے بعد علاقے میں متعدد دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کرتے ہوئے زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کیا۔ اسپتال میں ہنگامی حالت نافذ کردی گئی، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے اضافی انتظامات کیے گئے۔

حکام کے مطابق حملے میں اب تک 81 افراد زخمی ہوچکے ہیں، جن میں پولیس اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پولیس نے کوہاٹ، ہنگو روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا جبکہ اولڈ پولیس لائنز اور ملحقہ علاقوں کو گھیرے میں لے کر اضافی نفری تعینات کردی گئی۔ کلیئرنس اور سرچ آپریشن کے دوران علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کردی گئی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا واقعے کا نوٹس

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کوہاٹ پولیس لائنز پر دہشتگرد حملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم کی مذمت

وزیراعظم شہباز شریف نے کوہاٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو زخمیوں کو فوری اور بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے واقعے کی نوعیت اور وجوہات سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی۔

صدر مملکت کا اظہار افسوس

صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی کوہاٹ واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ہلاک افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ کی مذمت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی اور قوم اس طرح کے واقعات سے خوفزدہ نہیں ہوگی۔

کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب 2010 میں بھی بڑا حملہ

واضح رہے کہ کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب ستمبر 2010 میں بھی دہشتگردی کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس حملے میں 20 افراد ہلاک جبکہ 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی تھی۔

موجودہ حملے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے پولیس لائنز اور گردونواح میں سرچ و کلیئرنس کارروائیاں کیں۔ حکام کی جانب سے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور حملے میں ملوث عناصر سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C