افغانستان لاکھوں بچے شدید غذائی قلت کا شکار
👁️ 148 بار دیکھا گیا
افغانستان لاکھوں بچے شدید غذائی قلت کا شکار
نیو یارک (ڈیلی اردو/اے پی) اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں اس سال پانچ سال سے کم عمر گیارہ لاکھ بچے شدید غذئی قلت کا شکارہو سکتے ہیں۔ ہسپتالوں میں بھوک اور دبلے پن کے شکار بچوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
In Afghanistan, 1.1 million children under the age of 5 will likely face the most severe form of malnutrition this year, according to the U.N., as increasing numbers of hungry, wasting-away children flow into hospital wards. https://t.co/4ZvhzzGhXa
— AP Middle East (@APMiddleEast) May 25, 2022
گزشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد اقوام متحدہ اور دیگر فلاحی ایجنسیوں کی جانب سے فوری ایمرجنسی پروگراموں کو نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت لاکھوں افراد کو خوراک پہنچائی گئی۔ لیکن اب یہ تنظیمیوں بگڑتی صورتحال سے پریشان ہیں۔ ان کے پاس وسائل کم ہیں اور آبادی کی ضروریات بہت زیادہ ہیں۔
غربت میں اضافہ
اس جنگ ذدہ ملک میں غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ افغان شہریوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر یوکرین میں جاری جنگ کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور بہت کم ممالک اس وقت افغانستان کی مالی مدد کرنے کو تیار ہیں۔
نازیہ نامی ایک افغان خاتون کا کہنا ہے کہ کہ اس کے چار بچے خوراک کی قلت کے باعث ہلاک ہو گئے۔ تیس سالہ نازیہ نے بتایا، ” میرے چاروں بچے بھوک اور غربت کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔‘‘ اس وقت نازیہ اور اس کی سات سالہ بیٹی کا علاج صوبے پروان کے ایک ہسپتال میں جاری ہے۔ دونوں کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کی ایجنسی یونیسیف کے مطابق اس سال افغانستان میں گیارہ لاکھ بچے شدید بھوک کا شکار ہوں گے۔ بہت زیادہ دبلہ پن غذائی قلت کی بدترین قسم ہے۔ اس بیماری میں بچے کو خوراک کی اتنی زیادہ کمی ہوتی ہے کہ اس کا مدافعتی نظام کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ انہیں دیگر بیماریاں لگنے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
قندھار کے ایک ہسپتال میں گزشتہ چھ ماہ میں گیارہ سو بچوں کو ہسپتال داخل کیا گیا ان میں سے تیس بچے جانبر نہ ہو سکے۔ قندھار کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی جمیلہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ اس کا آٹھ ماہ کا بچہ غذائی قلت کے باعث ہلاک ہو گیا تھا۔ ”حکومت نے ہماری کوئی مدد نہیں کی، کسی سے ہم سے یہ نہیں پوچھا کہ ہمارے پاس کچھ کھانے کو ہے یا نہیں۔‘‘
فوری مدد کی ضرورت ہے
اقوام متحدہ کی ایجنسیاں اس وقت ملک کی 38 فیصد آبادی کو بنیادی خوراک فراہم کر پا رہی ہیں۔ لیکن فنڈنگ کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اگر امداد نہ ملی تو امدادی ایجنسیاں ملک کی صرف آٹھ فیصد آبادی کی خوراک کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکیں گی۔ ملک کو کم از کم 4.4 ارب ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے صرف 601 ملین ڈالر موصول ہوئے ہیں۔
افغانستان میں یونیسف کے نیوٹریشن پروگرام کی سربراہ میلانی گیلون کا کہنا ہے کہ صرف امدادی ایجنسیوں کے ذریعے ملک کی صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔ ملک میں دیگر عناصر کی بہتری سے ہی عوام کی مشکلات میں کمی کی جا سکتی ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 216 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 269 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 178 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 154 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 263 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 319 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8969 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4830 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3654 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3580 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2570 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2324 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C