22/July/2026

امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے

👁️ 38 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے

امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے

واشنگٹن (ڈیلی اردو/روئٹرز) امریکی افواج نے منگل کے روز ایران کی کئی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملوں کے دوران شدید بمباری کی جبکہ ان حملوں کے جواب میں ایران نے بھی عرب ریاستوں اردن، کویت اور بحرین میں امریکی اہداف کا نشانہ بنایا۔

 

امریکہ کی طرف سے ایران پر 21 جولائی کو نئے فضائی حملے اس ملک کے جنوب اور مغرب میں کئی مقامات پر کیے گئے۔ ان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران جنگ میں امریکی فوجی ہلاکتوں کی تہران کو بہت بڑی قیمت چکانا پڑے گی۔

 

دوسری طرف تازہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں ایرانی فورسز نے بھی منگل کے روز اردن اور خلیجی عرب ریاستوں بحرین اور کویت میں امریکہ کے عسکری اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنایا۔

 

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایرانی فورسز نے مشرق وسطیٰ کی ریاست اردن میں بھی امریکی فوجی اہداف کو ٹارگٹ کیا۔ امریکی حملوں اور جوابی ایرانی حملوں کے دوران آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

 

فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران جنگ میں پاکستان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے مابین جو عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، اس کے بعد امید ہو چلی تھی کہ امریکہ اور ایران آپس میں مزید مذاکرات کے بعد شاید جلد ہی کسی حتمی امن معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

 

لیکن قریب ڈیڑھ ہفتہ قبل آبنائے ہرمز میں چند مال بردار بحری جہازوں پر کیے جانے والے حملوں کے بعد امریکہ نے جس طرح ایران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے اور جس طرح ایران نے بھی ان کے جواب میں خلیج فارس میں واشنگٹن کی اتحادی عرب ریاستوں میں امریکی مفادات کو ہدف بنانا شروع کر دیا، اس کے نتیجے میں عبوری امن معاہدہ اب تقریباﹰ ناکام ہو چکا ہے۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق اب تو یہ خطرہ بھی ہے کہ دوبارہ شروع ہو جانے والی دوطرفہ جنگی کارروائیاں پھر سے بھرپور جنگ کی شکل بھی اختیار کر سکتی ہیں۔

 

ان حالات میں یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کی طرف سے پیر 20 جولائی کو سعودی عرب کو دی گئی اس کی بحری ناکہ بندی کی دھمکی نے جیسے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

 

حوثی باغیوں کی اس دھمکی کے بعد اب یہ خطرہ بھی پیدا ہو چکا ہے کہ ایران جنگ میں حوثیوں اور سعودی عرب کے مابین شدید ہوتی جا رہی کشیدگی کے باعث ایک نیا محاذ بھی کھل سکتا ہے۔

 

حوثی باغیوں نے مختلف شپنگ کمپنیوں کو پیر کی رات ایک ای میل میں وارننگ بھی جاری کر دی۔ اس ای میل کو روئٹرز نے بھی دیکھا، جس میں کہا گیا ہے کہ حوثی سعودی بندرگاہوں سے تیل لانے والے یا وہاں کارگو لے جانے والے مال بردار بحری جہازوں کو ’’کسی بھی جگہ‘‘ پر نشانہ بنا سکتے ہیں۔

 

نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ منگل 21 جولائی کو ایران پر نئے امریکی فضائی حملوں کے نتیجے میں جن شہروں میں بڑے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، ان میں ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ایران کا شہر شیراز بھی شامل ہے۔

 

اس کے علاوہ انہی فضائی حملوں کے دوران ملک کے جنوبی ساحلی علاقے کے ساتھ ساتھ چابہار اور کنارک میں بھی دھماکے سنائی دیے۔

 

دیگر عسکری اہداف میں خرم آباد کا شہر بھی شامل تھا اور آبدانان نامی شہر کے مضافات میں ایک سویلین سائٹ بھی۔ خرم آباد اور آبدانان دونوں مغربی ایرانی شہر ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C