افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اقوام متحدہ
👁️ 23 بار دیکھا گیا
افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اقوام متحدہ
نیو یارک (ڈیلی اردووی او اے) اقوامِ متحدہ کی افغانستان میں اعلیٰ ترین سفارت کار ڈیبورا لائنز نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی موجودگی پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کو آگاہ کرتے ہوئے ڈیبورا لائنز نے کہا ہے کہ داعش افغانستان میں عدم استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی موجودگی کو بڑھانے میں مصروف ہے۔
شدت پسند تنظیم داعش خود کو ’الدولة الاسلامیہ خراسان‘ کا نام دیتی ہے جب کہ اس کو عالمی سطح پر ’اسلامک اسٹیٹ خراسان پروئنس‘ (آئی ایس کے پی) کا نام دیا جاتا ہے۔
سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں ڈیبورا لائنز کا کہنا تھا کہ پہلے داعش چند صوبوں اور دارالحکومت کابل میں محدود طور پر موجود تھی۔ البتہ اب ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے اس کی رسائی تمام صوبوں تک ہو گئی ہے اور اس کی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں ہونے والے رواں برس 334 حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے جب کہ گزشتہ برس اس کے حملوں کی تعداد صرف 60 تھی۔ داعش نے بیشتر حملوں میں شیعہ برادری کو نشانہ بنایا ہے۔
افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ داعش کے خلاف ایک منظم لڑائی لڑنے پر زور دے رہے ہیں لیکن اس مہم کے دوران ماورائے عدالت گرفتاریوں اور اموات کے خدشات ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی بہت زیادہ توجہ درکار ہے۔
اگست کے وسط میں طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا اور اسی ماہ کے آخر میں امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان سے انخلا مکمل کیا تھا۔ غیر ملکی فوج کے انخلا کے بعد افغانستان میں دو دہائیوں سے جاری جنگ کا تو خاتمہ ہو گیا لیکن اس کے ساتھ ہی شدت پسند تنظیم داعش کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکہ کے فوجی حکام کئی ماہ سے ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ افغانستان میں کمزور انتظامی معاملات کی صورت میں شدت پسند تنظیمیں داعش اور القاعدہ خود کو یہاں منظم کر سکتی ہیں۔
طالبان کے حوالے سے ڈیبورا لائنز کا کہنا تھا کہ ان سے رابطہ عمومی طور پر مؤثر اور تعمیری رہتا ہے۔ طالبان نے اقوامِ متحدہ کو یقین دہائی کرائی ہے کہ وہ اس کی افغانستان میں موجودگی اور عوام کی معاونت کے خواہاں ہیں۔
طالبان برسرِ اقتدار آنے سے قبل بھی افغانستان انسانی بحران کا شکار تھا۔ دو دہائیوں پر محیط مسلح تنازعے، قحط سالی اور بدعنوانی سے لاکھوں لوگ غربت میں زندگی گزارنے اور نقل مکانی پر مجبور تھے۔
افغانستان کی معیشت کا دارومدار زیادہ تر بیرونی امداد پر مشتمل ہے۔ البتہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ امداد بند ہو گئی ہے کیوں کہ بین الاقوامی برادری طالبان کی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق افغانستان کی تین کروڑ 80 لاکھ آبادی میں سے دو کروڑ 30 لاکھ آبادی کو معاونت درکار ہے۔
سیکیورٹی کونسل کو آگاہ کرتے ہوئے ڈیبورا لائنز کا کہنا تھا کہ افغانستان انسانی بحران کے دہانے پر ہے۔ البتہ اس سے بچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے افغانستان کے مالی ذرائع پر بین الاقوامی پابندی ختم کرنے کے حوالے سے واضح طور پر کچھ نہیں کہا۔ البتہ انہوں نے افغانستان میں آنے والی بدتریج مالی ابتری کی نشان دہی کی۔
اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مستقل ارکان روس اور چین نے افغانستان کے بین الاقوامی سطح پر موجود منجمد مالی ذرائع کو جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
طالبان کے افغانستان میں اقتدار کو تین ماہ ہونے والے ہیں البتہ کسی بھی ملک نے ان کی حکومت کو باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں بھی افغانستان کے مندوب غلام اسحٰق زئی گزشتہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ہیں۔
غلام اسحٰق زئی نے سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ افغانستان میں صورتِ حال انتہائی خراب ہے۔ نسلی بنیادوں پر خانہ جنگی سے بچنے کے لیے ایک جامع حکومت ضروری ہے۔ جب کہ اس سے غیر ملکی عناصر کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکا جا سکے گا۔
سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے افغانستان کے پڑوسی ممالک ایران، تاجکستان اور پاکستان کے مندوبین نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
پاکستان کے مطابق افغانستان کی نئی انتظامیہ بین الاقوامی برادری سے مثبت انداز میں رابطے میں ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کے مطابق اگست کے وسط میں جو ڈراؤنے خواب کا اندیشہ تھا اس طرح نہیں ہوا۔ افغانستان میں کسی بھی بڑے پیمانے پر تشدد یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات نہیں ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکیورٹی کی صورتِ حال میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔ لڑکیوں کے اسکول کھول دیے گئے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ایران کا امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
12/July/2026 👁️ 154 بار دیکھا گیا
شام میں اسرائیلی فوج کا سرچ آپریشن
12/July/2026 👁️ 141 بار دیکھا گیا
امریکہ کا ایران پر حملوں کا تیسرا مرحلہ شروع، متعدد علاقوں میں دھماکے
12/July/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں دہشت گردوں کی فائرنگ، ایف سی اہلکار ہلاک
12/July/2026 👁️ 126 بار دیکھا گیا
مجتبیٰ خامنہ ای کا علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا عزم، ٹرمپ کی ایران کو سخت تنبیہ
12/July/2026 👁️ 321 بار دیکھا گیا
بنوں پولیس کا 40 مطلوب دہشت گردوں پر کروڑوں روپے انعام کا اعلان
12/July/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8925 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4756 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3538 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2535 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2284 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1974 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C