30/November/2025

امریکا میں 7000 افغان ’ہائی سیکیورٹی رسک‘ قرار

👁️ 323 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکا میں 7000 افغان ’ہائی سیکیورٹی رسک‘ قرار

امریکا میں 7000 افغان ’ہائی سیکیورٹی رسک‘ قرار

واشنگٹن (ش ح ط) امریکہ انخلا کے بعد لائے گئے 6,800 سے زائد افغان شہری ہائی سیکیورٹی خدشات کی زد میں آگئے ہیں۔ 

 

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے ڈیٹا کے مطابق، افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد آپریشن "الائیز ویلکم" کے تحت امریکہ لائے گئے ہزاروں افغان شہریوں میں سے 6,800 سے زائد افراد کے بارے میں مختلف نوعیت کے سیکیورٹی خدشات کی نشاندہی ہوئی ہے۔

 

 

نیو یارک پوسٹ کو موصول ہونے والے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے ڈیٹا کے مطابق، 2021 میں لائے گئے 6,868 افراد کے بارے میں “ممکنہ منفی معلومات” سامنے آئیں جن میں سے اکثریت  یعنی 5,005 افراد قومی سلامتی کے خدشات سے متعلق تھیں۔

 

ڈیٹا کے مطابق 956 افراد کو عوامی تحفظ (Public Safety) کے خدشات کے تحت مشکوک قرار دیا گیا جبکہ 876 افراد فراڈ میں ملوث پائے گئے۔ 

 

“یہ تفصیلات سینیٹر چک گراسلی، جو سینیٹ جوڈیشیئری کمیٹی کے چیئرمین ہیں، کو فراہم کی گئیں۔ انہوں نے مئی 2024 میں ڈی ایچ ایس سے افغان مہاجرین کی اسکریننگ کے بارے میں سوالات اٹھائے تھے۔”

 

ڈی ایچ ایس کے مطابق اگرچہ مختلف اداروں نے کئی معاملات میں خدشات کو دور کیا، مگر ستمبر 2024 تک 885 افراد ایسے تھے جن کے بارے میں قومی سلامتی سے متعلق منفی معلومات برقرار تھیں، جس کے باعث انہیں ممکنہ خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔

 

واشنگٹن ڈی سی میں دو نیشنل گارڈز اہلکاروں پر ہونے والے تازہ ترین قاتلانہ حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 19 "ہائی رسک" ممالک سے آنے والے تارکین وطن کی سیکیورٹی جانچ کے عمل کا فوری ازسرِنو جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔ اس حکم میں سابقہ انتظامیہ کے دور میں منظور ہونے والے تمام اسائلم کیسز کی دوبارہ چھان بین بھی شامل ہے۔

 

"یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب افغان نژاد رحمان اللہ لکانوال کے متعلق یہ واقعہ پیش آیا کہ 20 سالہ نیشنل گارڈز وومین سارہ بیکستروم ہلاک ہوئیں اور 24 سالہ اینڈریو وولف شدید زخمی ہوئے۔

 

سینیٹر گراسلی گزشتہ کئی برسوں سے ایف بی آئی اور ڈی ایچ ایس کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ آپریشن الائیز ویلکم کے تحت لائے گئے 70,000 سے زیادہ افغان شہریوں کی ویٹنگ میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔ 9 ستمبر کو ڈی ایچ ایس کی سیکریٹری کرسٹی نوم نے ایک خط میں سینیٹر گراسلی کو تسلیم کیا کہ افغان مہاجرین کی اسکریننگ اور ویٹنگ میں ایجنسی کو “رکاوٹوں” کا سامنا رہا۔

 

گراسلی نے نیو یارک پوسٹ سے گفتگو میں کہا کہ:“ میں نے کئی سال کمزور ویٹنگ اسٹینڈرڈز پر تشویش ظاہر کی مگر بائیڈن انتظامیہ نے مسلسل مزاحمت کی۔ افسوس کہ واشنگٹن کا حالیہ سانحہ ان خدشات کو درست ثابت کرتا ہے۔ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے پر قدردان ہوں۔”

 

ڈی ایچ ایس کے انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ افغان شہریوں کی اسکریننگ اور سیکیورٹی کی جانچ کا نظام “غیر مربوط اور منتشر” تھا۔

 

اسی دوران وزارتِ انصاف کی جون 2023 کی IG رپورٹ میں بتایا گیا کہ 55 افراد جو دہشت گرد واچ لسٹ میں شامل تھے، وہ امریکی بندرگاہوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

 

ان میں سے چند افراد کو انخلا کے دوران ہی واچ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

 

رپورٹ کے مطابق ایف بی آئی نے اعتراف کیا کہ افغان شہریوں کے فوری اور بڑے پیمانے پر انخلا کے باعث معمول کے سخت سیکیورٹی عمل پر عمل درآمد ممکن نہیں رہا جس سے یہ خطرہ بڑھا کہ کوئی خطرناک شخص بھی اس ہنگامی صورتحال سے فائدہ اٹھا کر ملک میں داخل ہو سکتا ہے۔

 

اسی عرصے کے دوران وفاقی اداروں نے دو افغان شہریوں ناصر احمد توحدی اور عبداللہ حاجی زادہ  کے خلاف 2024 کے امریکی انتخابات کے دوران اوکلاہوما سٹی میں حملے کی آئی ایس آئی ایس سے متاثر ایک مبینہ سازش کا مقدمہ قائم کیا۔

 

توحدی، جو 2021 میں خصوصی امیگرنٹ ویزا (SIV) پر امریکہ آیا تھا، نے دو AK-47 رائفلیں اور 500 گولیاں خریدنے کے بعد داعش کو مادی مدد فراہم کرنے کا جرم قبول کر لیا ہے اور اسے 35 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

 

19 سالہ حاجی زادہ کو 15 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ توحدی افغانستان میں سی آئی اے کے لیے سیکیورٹی گارڈ کے طور پر خدمات انجام دے چکا تھا۔

 

سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹ کلف نے 26 نومبر کو نیشنل گارڈز پر حملے کے چند گھنٹے بعد انکشاف کیا کہ لکانوال افغانستان میں سی آئی اے کے ساتھ کام کر چکا تھا اور انہیں "یہاں آنے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے تھی"۔

 

سابق ایف بی آئی اسسٹنٹ ڈائریکٹر کرس سویڪر نے بھی انتباہ کیا کہ بعض اوقات ایسے تعاون کار “دونوں طرف کھیلنے کی کوشش کرتے ہیں”۔ ان کے مطابق مستقبل میں امیگریشن ویٹنگ کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر کیس کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور نااہلی کے معیار واضح طور پر طے کیے جائیں۔

 

گذشتہ روز ٹرمپ انتظامیہ نے 19 ممالک کے شہریوں کو جاری کیے گئے گرین کارڈز کی دوبارہ جانچ کا اعلان کیا۔ یو ایس سی آئی ایس کے سربراہ جوزف ایڈلو کے مطابق صدر نے ہدایت دی ہے کہ امریکہ کے لیے سیکیورٹی خدشات والے تمام ممالک سے آئے افراد کے گرین کارڈز کی سخت جانچ پڑتال کی جائے۔

 

فہرست میں افغانستان، ایران، صومالیہ، وینزویلا، کیوبا، ہیٹی، میانمار، چاڈ، جمہوریہ کانگو، لیبیا، پاکستان، یمن، سوڈان، استوائی گنی، ایریٹیریا، برونڈی، لاؤس، سیرا لیون، ٹوگو، ترکمانستان اور دیگر شامل ہیں۔

 

ایڈلو نے کہا کہ امریکی عوام کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور وہ سابقہ انتظامیہ کی "لاپرواہ" پالیسیوں کی قیمت ادا نہیں کریں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ امریکہ میں مہاجرت کے نظام کو ازسر نو ترتیب دینے کے لیے ‘تیسری دنیا کے تمام ممالک’ سے ہجرت روکنے اور رہائش و شہریت کے اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

 

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے بعد امریکی حکومت نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی ہے جبکہ اسپیشل امیگریشن ویزے رکھنے والے افغان شہری بھی اس پابندی کا حصہ بن گئے ہیں۔

 

 تقریباً 200,000 افغان شہری ایسے ہیں جن کی امریکہ میں دوبارہ آبادکاری، پناہ یا خصوصی ویزوں کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔

 

ٹرمپ نے 20 جنوری کو پناہ گزینوں کے داخلے اور پروازوں کے لیے غیر ملکی امداد 90 دن کے لیے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا تھا، جس کے نتیجے میں افغان شہری افغانستان اور دنیا کے دیگر 90 ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں، جن میں سے تقریباً 20,000 پاکستان میں موجود ہیں۔ 

 

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات امریکی عوام کی قومی سلامتی اور مفاد کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں تاکہ پرتشدد اسلام پسند، عسکریت پسندوں یا ایسے افراد کی آمد روکی جا سکے جو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C