شامی مہاجرین کی اسمگلنگ میں ملوث ترک فوج کا بریگیڈیئر جنرل گرفتار
👁️ 157 بار دیکھا گیا
شامی مہاجرین کی اسمگلنگ میں ملوث ترک فوج کا بریگیڈیئر جنرل گرفتار
انقرہ (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے ایف پی) ترک وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق شام کی سرحد پر انسانوں کی اسمگلنگ کرنے کے شبے میں ملکی فوج کے بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز ایک اعلٰی افسر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ فوجی اہلکار اس طرح ہزاروں ڈالر کما رہا تھا۔
ترک وزارت دفاع کے ذرائع نے ملکی میڈیا میں رواں ہفتے شائع ہونے والی ان خبروں کی تصدیق کر دی ہے کہ شام میں ٹرکش آرمی کے علاقائی آپریشنز کے انچارج ایک بریگیڈیئر جنرل نے اپنی سرکاری گاڑی کو چیک پوائنٹس کے ذریعے لوگوں کو ترکی میں اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا اور یوں اس نے ہزارہا ڈالر کمائے۔
یہ واضح نہیں کہ جس سرکاری گاڑی کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو شامی ترک سرحد پار کرائی جاتی تھی، آیا اس میں بریگیڈیئر جنرل خود بھی موجود ہوتے تھے۔
انقرہ میں وزارت دفاع کے ذرائع نے اس بریگیڈیئر جنرل کے گرفتار کر لیے جانے کی تصدیق تو کر دی ہے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ گرفتاری کب اور کہاں عمل میں آئی۔
ترک میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اس فوجی افسر کی گرفتاری کا حکم شامی سرحد کے قریب واقع ترک صوبے شانلی اورفہ کے ضلع اکاکلے کے پراسیکیوٹر نے جاری کیا جبکہ گرفتاری انقرہ میں عمل میں لائی گئی۔
ذرائع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس بریگیڈیئر جنرل سے تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور انہیں جبری ریٹائر بھی کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ فوج کے اندر قانون شکنی کرنے والوں کا تعاقب کیا جائے گا، چاہے کوئی کسی بھی عہدے پر فائز کیوں نہ ہو۔ بتایا گیا ہے کہ انتظامی اور عدالتی کارروائی جاری ہے۔
سن 2016 کے بعد سے ترکی نے کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائے پی جی) کے جنگجوؤں کو شمالی شام سے نکالنے کے لیے وہاں یکے بعد دیگرے زمینی فوجی کارروائیاں کی ہیں اور اب وہاں ترک حکومت کے حمایت یافتہ مسلح گروہ دو بڑی سرحدی پٹیوں کو کنٹرول کر رہے ہیں۔
انقرہ وائے پی جی کو کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی ایک شاخ کے طور پر دیکھتا ہے، جسے اس نے باقاعدہ طور پر ایک ”دہشت گرد گروپ‘‘ قرار دے کر اس پر پابندی لگا رکھی ہے۔
شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد لاکھوں شامی باشندے اپنی جانیں بچانے کے لیے اپنے ملک سے فرار ہو کر ترکی میں داخل ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سرحدی کنٹرول سخت کر دیا گیا لیکن انسانوں کی اسمگلنگ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ملکی حالات سے تنگ آنے والے زیادہ تر شامی شہری براستہ ترکی یورپی ممالک تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شام میں خانہ جنگی کا آغاز 2011 میں ہوا تھا اور دمشق کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرین پر وحشیانہ کریک ڈاؤن کے بعد باقاعدہ جنگی کارروائیوں کا آغاز ہوا تھا۔ اس خانہ جنگی میں اب تک نصف ملین سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 186 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 247 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 154 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 132 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 241 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 284 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8968 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4824 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3579 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3579 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2569 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2321 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C