29/July/2026

اورکزئی میں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں

👁️ 10 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اورکزئی میں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں

اورکزئی میں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور داعش کے درمیان جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں

پشاور (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع اورکزئی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کالعدم جماعت الاحرار اور داعش سے منسلک عناصر کے درمیان مختلف علاقوں میں مبینہ جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔

 

مقامی ذرائع کے مطابق اپر اورکزئی کے علاقوں ممو چینہ، کوہِ کالا گاؤں اور یخ کنڈو کے پہاڑی سلسلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے درمیان شدید تصادم ہوا۔

 

اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے کاظم گروپ سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جن میں تین کو مبینہ طور پر ذبح کیا گیا جبکہ دو دیگر فائرنگ کے دوران مارے گئے۔

 

ذرائع کے مطابق کاظم گروپ کا کمانڈر کاظم زخمی ساتھیوں کے ہمراہ علاقے سے فرار ہو گیا۔

 

دوسری جانب ضلع اورکزئی کے علاقے کوہی کلے تورکانڑے، قوم اخیل میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور داعش سے منسلک عناصر کے درمیان بھی جھڑپ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تصادم میں ٹی ٹی پی کمانڈر ساجد عرف منصور سمیت تین سے چار دہشت گرد زخمی ہوئے، جبکہ زخمیوں میں کمانڈر اعجاز وزیر بھی شامل بتایا جاتا ہے۔

 

مزید اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں ایک کمانڈر ذوالقرنین عرف ایوبی ہلاک ہوا، جس کی لاش عبدالقیوم مسجد زرگری میں موجود ہونے کی اطلاع ہے۔

 

پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں جھڑپ پیش آئی، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

 

دوسری جانب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

 

پاکستان میں ماضی میں بھی مختلف شدت پسند تنظیموں کے درمیان اتحاد اور اختلافات کے باعث مسلح جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، جن میں دونوں جانب جانی نقصانات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

 

رواں سال 21 مئی 2026 کو قبائلی ضلع کرم میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور کالعدم جماعت الاحرار کے درمیان ہونے والے تصادم میں کالعدم جماعت الاحرار کے 18 ارکان ہلاک ہوئے تھے۔

 

اس سے قبل جنوری 2026 میں بھی کالعدم جماعت الاحرار سے وابستہ چار شدت پسند مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ارکان کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔

 

حکام کی جانب سے حالیہ جھڑپوں میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد یا دیگر تفصیلات کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، جبکہ علاقے کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C