ایران میں طاقت کا نیا کھیل، علما کے بجائے فوجی قیادت غالب آنے لگی
👁️ 398 بار دیکھا گیا
ایران میں طاقت کا نیا کھیل، علما کے بجائے فوجی قیادت غالب آنے لگی
تہران (ڈیلی اردو)ایران جنگ کے دوران قیادت میں تبدیلی سے اقتدار کے ڈھانچے کی منتقلی بھی دکھائی دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاسداران انقلاب ایک غالب طاقت کے طور پر ابھر رہے ہیں، جس سے ملکی نظام کی مذہبی بنیادیں کمزور پڑ سکتی ہیں۔
ایرانی امور کے ماہرین کے درمیان اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا اسلامی جمہوریہ ایران ایک تاریخی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں اب ایک مذہبی شخصیت کی جگہ عملی طور پر عسکری قیادت اقتدار سنبھال لے گی۔
1979ء کے اسلامی انقلاب کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی پاسداران انقلاب کی تنظیم وقت گزرنے کے ساتھ صرف ایک عسکری تنظیم نہیں رہی بلکہ ایک وسیع معاشی اور سیاسی قوت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اندازوں کے مطابق پاسداران انقلاب اپنی ذیلی اور منسلک کمپنیوں کے ذریعے ایران کی تقریباً نصف تیل کی دولت پر اثر و رسوخ رکھتے ہیں، جبکہ تعمیرات، ٹیلی کمیونیکیشن اور برآمدی صنعتوں میں بھی اس تنظیم کے اربوں ڈالر مالیت کے مفادات موجود ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تبدیلی کا عمل کئی دہائیوں سے جاری تھا تاہم حالیہ جنگ نے اس عمل کو غیر معمولی حد تک تیز کر دیا ہے۔
جرمنی میں مقیم سیاسی تجزیہ کار اور مصنف فراز سرکوہی کے مطابق، ''جنگ کے آغاز کے بعد ملک میں نافذ ہنگامی صورتحال کے تناظر میں، ایران کی اسٹریٹیجک اور آپریشنل قیادت باضابطہ طور پر جنگی ہیڈکوارٹرز اور اعلیٰ فوجی جرنیلوں کے سپرد کر دی گئی ہے۔‘‘
تاہم، سرکوهی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ ایران مکمل طور پر ایک خالص فوجی آمریت میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ان کے بقول،''اس نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک اب بھی ولایتِ فقیہ کا ادارہ ہے، جو بدستور اقتدار کے ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔‘‘
28 فروری 2026 کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد مجلسِ خبرگان نے مبینہ طور پر پاسداران انقلاب کے دباؤ میں ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایران میں سکیورٹی اداروں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔
دی ہیگ انسٹی ٹیوٹ فار جیوپالیٹکس سے وابستہ محقق ڈیمن گولریز مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کو ایران کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ سمجھتے ہیں۔
ان کے بقول،''مجتبیٰ خامنہ ای کی سپریم لیڈر کے طور پر تقرری اس حقیقت کو مستحکم کرتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں اب مذہبی جواز کے بجائے سیاسی مفادات اور طاقت کا توازن فیصلہ کن عوامل بن چکے ہیں۔‘‘
ڈیمن گولریز کا کہنا ہے، ''ان کی تقرری کا انحصار قابلیت یا مذہبی مقام سے زیادہ ان کے مضبوط تعلقات، اندرونی روابط اور اقتدار کے مراکز سے وابستگی کی وجہ سے ہوئی ہے۔‘‘
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک مذہبی شخصیت ہیں تاہم انہوں نے نہ تو کسی اعلیٰ مذہبی منصب پر خدمات انجام دی ہیں اور نہ ہی ایران کی انتخابی سیاست میں کوئی نمایاں یا فعال کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ''اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای بظاہر سپریم لیڈر کی کرسی پر بیٹھیں گے اور وہ نام کے لحاظ سے تو رہنما ہوں گے، مگر عملی طور پر ان کی حیثیت ایک علامتی اور نمائشی شخصیت کی ہو گی۔‘‘
مجتبیٰ خامنہ ای کے سکیورٹی اداروں سے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ ان روابط کی بنیاد ایران۔عراق جنگ کے دوران پڑی، جب انہوں نے 1987 میں پاسداران انقلاب میں شمولیت اختیار کی اور اس کی 27ویں محمد رسول اللہ ڈویژن کے تحت حبیب ابن مظاہر بٹالین میں خدمات انجام دیں۔
یہی بٹالین بعد ازاں ایسے عسکری اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کا مرکز بنی، جس نے آنے والے برسوں میں پاسداران انقلاب کی قیادت اور خفیہ اداروں کے طاقتور حلقے کو جنم دیا۔
گزشتہ دو دہائیوں سے یہ عسکری نیٹ ورک سپریم لیڈر کے دفتر کی ایک توسیع شدہ سکیورٹی شاخ کے طور پر کام کرتا رہا ہے اور اس نے ایران کے اقتدار کے ڈھانچے میں نمایاں اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے۔
ڈیمن گولریز کا کہنا ہے کہ 2009 سے مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی کمانڈروں کے درمیان رابطہ کاری اور بسیج ملیشیا کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں براہ راست کردار ادا کیا۔ بسیج، پاسداران انقلاب کے تحت کام کرنے والی ایک نیم فوجی تنظیم ہے جسے عوامی احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ آئینی طور پر انتظامی اختیارات ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے پاس ہیں لیکن ''حقیقی طاقت مجتبیٰ خامنہ ای اور فوجی و سکیورٹی شخصیات کی نئی نسل پر مشتمل ایک مضبوط نیٹ ورک کے ہاتھوں میں ہے۔‘‘
ڈیمن گولریز کے بقول، ''اس مذہبی پردے کے پیچھے اقتدار کا مرکز دینی مدارس اور فقہی اداروں سے منتقل ہو کر فوجی بیرکوں تک پہنچ چکا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای اس نظام کو نظریاتی جواز فراہم کرتے ہیں، جبکہ عملی طور پر حکومت چلانے کا کام پاسداران انقلاب اسلامی انجام دے رہا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''ایران کے آیت اللہ ایک ہی دن میں منظرنامے سے غائب نہیں ہوں گے، لیکن ان کی سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ بتدریج تاریخ کے صفحات کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔‘‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
غزہ: اسرائیل کا حماس کے سکیورٹی ادارے کے اعلیٰ عہدیدار کو ہلاک کرنے کا دعویٰ
21/October/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی خبر امریکی سینٹکام نے مسترد کردی
21/October/2026 👁️ 87 بار دیکھا گیا
عاصم منیر کی تہران میں اہم ملاقاتیں، ایران کا افزودہ یورینیم بیرون ملک منتقل کرنے سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی اقدامات پر زور
20/October/2026 👁️ 259 بار دیکھا گیا
نیتن یاہو کا ایرانی حکومت کے خاتمے پر اصرار، ٹرمپ سے متعدد بار گفتگو کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
عراق: کرکوک میں داعش کے حملوں میں اضافہ، سکیورٹی خلا سے فائدہ اٹھانے کا خدشہ، ماہرین نے خبردار کردیا
20/October/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
سعودی عرب کے دفاع کے لیے برطانیہ کے ٹائفون لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان
20/October/2026 👁️ 71 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15625 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11920 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9275 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7534 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5489 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C