بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد تنازع کے حل کیلئے ثالثی پینل بنا دیا
👁️ 130 بار دیکھا گیا
بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد تنازع کے حل کیلئے ثالثی پینل بنا دیا
نئی دہلی (ڈیلی اردو) بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد یا رام مندر تنازع کو ثالثی سے حل کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک تین رکنی پینل تشکیل دے دیا جو 8 ہفتے میں مصالحت کا عمل مکمل کرے گا۔
چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس رانجن گوگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے اپنے حکم میں بابری مسجد تنازع کے حل کے لیے سابق جج جسٹس (ر) خلیف اللہ کی سربراہی میں تین رکنی ثالثی پینل بنا دیا جو ایک ہفتے میں اپنے کام کا آغاز کرے گا۔
ثالثی پینل کے دیگر دو ارکان میں شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل شری رام پانچو شامل ہیں۔
عدالت نے حکم دیا کہ ثالثی پینل بابری مسجد یا رام مندر کا تنازع 8 ہفتے میں حل کرے اور ثالثی کا عمل اترپردیش کے شہر فیض آباد میں ہوگا۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ثالثی کا عمل خفیہ طریقے سے ہوگا جس کی میڈیا کو رپورٹنگ کی اجازت نہیں ہوگی اور تمام معاملے کی نگرانی اعلیٰ عدالت خود کرے گی۔
ثالثی پینل کے چیئرمین جسٹس (ر) خلیف اللہ کا کہنا ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے تمام صلاحیتیں بروئے کار لائی جائیں گی اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
پہلے مغل بادشادہ بابر کے حکم پر 1528 میں بابری مسجد تعمیر کی گئی 1528 میں مغل دور حکومت میں بھارت کے موجودہ شہر ایودھا میں بابری مسجد تعمیر کی گئی جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہوئے اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔جسے انتہاپسند ہندوؤں نے 6 دسمبر 1992 کو شہید کردیا تھا۔
ایودھیا میں واقع بابری مسجد کو 1992 میں شہید کیے جانے کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فسادات ہوئے تھے، جس میں تقریباً 2 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
انتہا پسند ہندوؤں کا کہنا ہے کہ وہ اس مقام پر ہندو دیوتا ‘رام’ کا نیا مندر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، جو ان کی جائے پیدائش ہے۔
برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کے لیے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا۔
تقسیم ہندوستان کے بعد حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کے لیے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
ان کا مؤقف ہے کہ 16ویں صدی کی بابری مسجد، مسلم بادشاہوں نے ہندو دیوتا کا مندر گرانے کے بعد قائم کی تھی۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں انتخابات سے قبل اس مقام پر مندر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا، جس کی وجہ سے انہیں انتہا پسند ہندوؤں کے بڑے پیمانے پر ووٹ ملے تھے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 98 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 152 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 138 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 97 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 158 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 151 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8966 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4820 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3578 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3544 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2568 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2321 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C