جرمنی: جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی ملک بدری کی تیاریاں
👁️ 455 بار دیکھا گیا
جرمنی: جرائم میں ملوث افغان شہریوں کی ملک بدری کی تیاریاں
برلن (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے/روئٹرز) جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزانڈر ڈوبرنٹ نے تصدیق کی ہے کہ جرمنی میں جرائم میں ملوث افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کے لیے طالبان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ براہِ راست تکنیکی رابطے قائم کیے گئے ہیں۔
ڈوبرنٹ نے کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ ملک بدری خود بخود ممکن ہو، اسی لیے وزارت داخلہ کے اہلکار اور افغانستان کے نمائندے تکنیکی مذاکرات کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ جرمن وفود نے قطر میں افغان نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی ہے اور آئندہ ہفتوں میں مزید ملاقاتیں طے ہیں۔
جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے بھی تصدیق کی کہ دوحہ میں ملک بدری پر مذاکرات جاری ہیں اور کابل میں ملاقاتیں لازمی نہیں۔ جولائی میں جرمنی نے ایسے 81 افغان شہریوں کو ملک بدر کیا تھا جو جرائم میں سزا یافتہ تھے۔
طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان میں حکومت سنبھالی تھی، لیکن جرمنی نے انہیں جائز حکومت تسلیم نہیں کیا اور طالبان کے ساتھ کوئی سرکاری سفارتی تعلق قائم نہیں رکھا۔
گرین پارٹی کے پالیسی ترجمان مارسِل ایمریش نے اس اقدام کو ’’اسکینڈل‘‘ قرار دیا اور کہا، ’’عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ دہشت گردوں کے بدلے میں کیا حاصل کیا جا رہا ہے۔ ڈوبرنٹ خود کو ایک اسلام پسند تنظیم کا محتاج بنا رہے ہیں اور ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔‘‘
جرمنی میں مہاجرت کا مسئلہ حالیہ انتخابات میں مرکزی موضوع رہا ہے۔ وفاقی چانسلر فریڈرش میرس نے وعدہ کیا ہے کہ افغانستان اور شام سے تعلق رکھنے والے مجرم مہاجروں کو واپس بھیجا جائے گا، اور افغانستان میں جرمن اداروں کے سابق مقامی عملے کے لیے پناہ گزین پروگرام معطل کیے جائیں گے۔
افغان شہریوں کی پہلی ملک بدری اگست 2024 میں زولنگن میں ایک مہلک چاقو حملے کے بعد کی گئی تھی، جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد جرمنی نے ایسے مہاجروں کی ملک بدری کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
انسانی حقوق کے کارکنان نے اس اقدام پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان محفوظ نہیں اور افغان شہریوں کی ملک بدری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
اگرچہ جرمنی طالبان حکومت کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کرتا، لیکن فریڈرش میرس انتظامیہ نے جولائی میں دو افغان اہلکاروں کو جرمنی میں افغان سفارتی مشنز میں کام کرنے کی اجازت دی تاکہ ملک بدری کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
چانسلر نے واضح کیا کہ قونصلر عملے کو کام کرنے کی اجازت کے باوجود طالبان حکومت کو سفارتی طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بولیویا میں فوجی اڈے کے اندر زور دار دھماکا، 10 افراد ہلاک، 62 زخمی
05/September/2026 👁️ 74 بار دیکھا گیا
یمن: جنوبی تعز میں حکومتی فورسز کی پیش قدمی، حَیفان میں اہم پہاڑی اور دیہات کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ
05/September/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
ٹرمپ کی ایران کے حساس جوہری مقام کو نشانہ بنانے کی دھمکی، روس یوکرین جنگ پر بھی سفارتی کوششیں تیز
05/September/2026 👁️ 107 بار دیکھا گیا
شابان وادی میں ڈرون حملہ، ٹی ٹی پی پشین کا مبینہ گورنر 2 ساتھیوں سمیت ہلاک
05/September/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
بلوچستان : سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 36 دہشتگرد ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ
05/September/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
میجر جنرل فیصل نصیر نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر، تقرری 3 سال کے لیے ہوگی
04/September/2026 👁️ 78 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26275 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15524 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11806 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9100 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7389 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5067 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C