27/February/2026

جرمنی کا طالبان سے براہِ راست معاہدہ، 20 افغان مجرم کابل بھیج دیے گئے

👁️ 151 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جرمنی کا طالبان سے براہِ راست معاہدہ، 20 افغان مجرم کابل بھیج دیے گئے

جرمنی کا طالبان سے براہِ راست معاہدہ، 20 افغان مجرم کابل بھیج دیے گئے

برلن (ڈیلی اردو/اے ایف پی) جرمنی نے 2021 میں کابل میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد پہلی بار ایک براہ راست معاہدے کے تحت جمعرات 26 فروری کو 20 افغان باشندوں کو ملک بدر کر کے واپس ان کے وطن بھیج دیا۔

 

جرمن وزارت داخلہ نے جمعرات کے روز بتایا کہ ان 20 افغان مجرموں کو، جنہیں جرمنی میں مختلف جرائم میں سزائیں سنائی گئی تھیں، مشرقی شہر لائپزگ سے ایک چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے کابل بھیجا گیا۔ یہ پرواز طالبان کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد ممکن ہوئی۔

 

اس سے قبل جرمنی سے افغانستان تک پروازیں قطر کی ثالثی میں ممکن ہوتی تھیں۔

 

طالبان کے ساتھ سیاسی رابطہ جرمنی میں نہایت متنازعہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ جرمنی کے کابل میں اس اسلام پسند گروپ کی سخت گیر حکومت کے ساتھ تاحال کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔

 

افغان طالبان کو انسانی حقوق، خصوصاً خواتین کے حقوق، کی خلاف ورزیوں کے باعث بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے۔

 

وفاقی جرمن وزیر داخلہ الیکسانڈر ڈوبرنٹ نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ’’افغانستان کے لیے براہ راست اور مستقل ملک بدری کی ایک قابل اعتماد بنیاد فراہم کرتا ہے۔‘‘

 

جن افغان باشندوں کو اب ملک بدر کیا گیا ہے، وہ جرمنی میں جنسی جرائم، منشیات سے متعلق جرائم اور حملوں سمیت مختلف سنگین جرائم میں عدالتی سطح پر مجرم قرار دے دیے گئے تھے۔

 

جرمنی سے جرائم کے مرتکب افغان باشندوں کی ان کے وطن ملک بدری کا معاملہ فروری 2025 میں ہونے والے وفاقی جرمن پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک اہم سیاسی موضوع بن گیا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد چانسلر فریڈرش میرس کی حکومت نے ایسی ملک بدریوں میں اضافے کا وعدہ بھی کیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C