جنگی جرائم: بشارالاسد کی حامی ملیشیا کا اہم رہنما جرمنی میں گرفتار
👁️ 111 بار دیکھا گیا
جنگی جرائم: بشارالاسد کی حامی ملیشیا کا اہم رہنما جرمنی میں گرفتار
برلن (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/ڈی پی اے) احمد ایچ پر الزام ہے کہ انہوں نے شام کی خانہ جنگی کے ابتدائی سالوں میں دمشق کے مضافات میں اسد نواز ملیشیا کی قیادت کی تھی۔ انہیں شمالی جرمنی کے شہر بریمن سے گرفتار کیا گیا ہے۔
جرمن پولیس نے شامی خانہ جنگی کے ابتدائی دور میں بشار الاسد کی حامی ملیشیا کی قیادت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث رہنے کے شبے میں ایک شامی شخص کو گرفتار کیا ہے۔
بدھ کے روز جرمنی کے شمالی شہر بریمن سے گرفتاری کے ایک روز بعد پولیس نے بتایا کہ اس شخص کی شناخت احمد ایچ کے طور پر کی گئی ہے۔
ملزم پر کیا الزامات ہیں؟
استغاثہ کا کہنا ہے کہ مشتبہ ملزم سن 2012 سے سن 2015 تک دمشق کے نواحی علاقے تادمان میں شامی رہنما بشارالاسد کی وفادار ملیشیا کا رہنما تھا۔
انہوں نے مزید بتایا، ”ملیشیا نے متعدد چوکیاں قائم کر رکھی تھیں جہاں لوگوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کیا جاتا تھا تاکہ ان سے یا ان کے خاندان کے افرا د سے جبراً رقم اینٹھی جا سکے، ان سے جبری مزدوری کرائی جا سکے یا ان پر تشدد کیا جا سکے۔”
احمد ایچ پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے ایک زیر حراست شخص کے منہ پر گھونسے مارے اور ملیشیا کے ساتھی ارکان کو پلاسٹک کے پائپوں سے اس شخص پر گھنٹوں تک “وحشیانہ تشدد” کرنے کا حکم دیا۔
ایک اور واقعے میں احمد ایچ اور اس ملیشیا کے دیگر اراکین نے مبینہ طور پر ایک چوکی پر ایک شہری کو بری طرح مارا پیٹا، اسے سر لے بل سڑک پر گھسیٹا اور پھر رسیوں سے باندھ کے ملیشیا اسے اپنے ساتھ لے گئے۔
استغاثہ نے دو مبینہ واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مشتبہ شخص نے پچیس تیس افراد کے ایک گروپ کو گرفتار کیا اور انہیں ریت کے تھیلوں کو لے کر قریبی محاذ جنگ پر پورا دن گزارنے پر مجبور کیا۔ اس دوران سخت گرمی میں انہیں بھوکا پیا سا رکھا گیا اور مارا پیٹا بھی گیا۔
استغاثہ نے بتایا کہ ملیشیا نے ملٹری انٹیلیجنس ونگ کے ساتھ بھی کام کیا، جس نے علاقے میں کم از کم 47 افراد کو موت کی سزا دی۔
جرمن استغاثہ کا ‘عالمی دائرہ اختیار’ کے تحت کارروائی
احمد ایچ پر ممکنہ فرد جرم عائد ہونے تک جمعرات کو ایک جج نے ملزم کو پولیس کی تحویل میں دے دیا۔
گرچہ انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کا ارتکاب شام میں کیا گیا تھا اور اس میں کوئی جرمن شہری ملوث نہیں تھا لیکن جرمنی کے “عالمی دائرہ اختیار” کے اصول کے تحت استغاثہ اب بیرون ملک کیے گئے سنگین جرائم کے مقدمات کی بھی پیروی کر سکتا ہے۔ خواہ ان کا ارتکاب کسی نے بھی کیا ہو یا متاثرین کوئی بھی ہوں۔
اسی اصول کے تحت سن 2022 میں شام کے ایک سینیئر اہلکار کو انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے پہلی سزا سنائی گئی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بدخشاں میں طالبان کے کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ، اے ایف ایف کا 4 اہلکار ہلاک کرنے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 64 بار دیکھا گیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں امریکی بغیر پائلٹ آبدوز قبضے میں لینے کا دعویٰ
09/September/2026 👁️ 65 بار دیکھا گیا
ایران کا اردن میں امریکی فوجی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ، 20 میزائل داغے جانے پر اردن کا بیان
09/September/2026 👁️ 82 بار دیکھا گیا
امریکا کا 5 ایرانی آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملوں کی ویڈیوز بھی جاری
09/September/2026 👁️ 75 بار دیکھا گیا
جنوبی وزیرستان میں 48 گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ، اہم شاہراہوں پر آمدورفت بند
09/September/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
ایران : سیستان و بلوچستان میں سیکیورٹی آپریشن، 3 مبینہ دہشتگرد ہلاک، 9 گرفتار
08/September/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26281 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15528 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11816 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9110 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7401 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5105 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C