15/October/2026

حوثیوں کا سعودی ٹائفون جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو پر حملوں کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی

👁️ 98 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حوثیوں کا سعودی ٹائفون جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو پر حملوں کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی

حوثیوں کا سعودی ٹائفون جنگی طیارے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، ریاض ایئرپورٹ اور آرامکو پر حملوں کے بعد کشیدگی مزید بڑھ گئی

صنعا(ڈیلی اردو) یمن کے حوثی باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں سعودی فضائیہ کے ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق طیارے کو براہِ راست میزائل لگا اور اس کے گر کر تباہ ہونے کا خدشہ ہے، تاہم سعودی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی آزاد ذرائع سے طیارے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

حوثیوں نے ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ بھی دہرایا ہے۔ گروپ کے مطابق رأس العارہ اور المضاربہ کے علاقوں میں سعودی افواج کے اجتماعات پر مزید تین بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن سے جانی نقصان اور فوجی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ ان دعوؤں کی بھی سعودی حکام کی جانب سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب سعودی شہری دفاع کے مطابق ریاض میں ایک بیلسٹک میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کردیا، جس کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے ایک غیر ملکی شہری زخمی ہوا جبکہ ایک رہائشی مکان اور گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا۔

حوثیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صنعا، تعز، لحج، مأرب، عمران اور جزیرہ میون میں سعودی فضائیہ نے 42 فضائی اور میزائل حملے کیے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک یمن میں سعودی حملوں کی تعداد 2,323 ہوگئی ہے۔ حوثیوں نے جزیرہ میون پر حملوں کو بحری جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان کے ممکنہ نتائج کی ذمہ داری سعودی عرب پر عائد کرنے کا انتباہ بھی دیا ہے۔ ان اعداد و شمار اور دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

اس کے برعکس، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن فجر یمن‘ کے آغاز سے حوثیوں کے خلاف 2,309 کارروائیاں کی جاچکی ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 1,250 حوثی جنگجوؤں کو لڑائی سے باہر کردیا گیا جبکہ 460 سے زائد فوجی گاڑیاں اور عسکری سازوسامان تباہ یا ناکارہ بنایا گیا۔ ان اعداد و شمار کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی شہر ظہران میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے مرکزی کمپلیکس کی ایک انتظامی عمارت پر میزائل حملے کے بعد آگ لگی۔ سعودی وزارتِ توانائی نے نقصان کو محدود قرار دیتے ہوئے کہا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جبکہ کمپنی سے واقف ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ عمارت کے بالائی تین منزلوں کو نقصان پہنچا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی عمارت کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات دیں، تاہم نقصان کی مکمل نوعیت اور وسعت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

روئٹرز کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات پر مزید حملے جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے اور ان کارروائیوں کو یمن میں سعودی حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔ حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کرگیا ہے، جبکہ اہم توانائی تنصیبات اور علاقائی بحری و فضائی آمدورفت کی سلامتی پر بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C