01/August/2026

دہشت گردوں سے مذاکرات کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈالنا ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

👁️ 8 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دہشت گردوں سے مذاکرات کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈالنا ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشت گردوں سے مذاکرات کی گنجائش نہیں، ہتھیار ڈالنا ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی (ڈیلی اردو) پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ریاست دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات کی پالیسی نہیں رکھتی اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رہیں گی۔ 

 

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے پاس ہتھیار ڈال کر قانون کے سامنے سرینڈر کرنے کا اختیار موجود ہے، بصورت دیگر سیکیورٹی فورسز اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

 

راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی اور ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ 

 

ان کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 31 ہزار بلوچستان جبکہ 7 ہزار 177 خیبر پختونخوا میں کیے گئے۔

 

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں ان کے محفوظ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال اب تک دہشت گردی سے متعلق واقعات میں مجموعی طور پر 819 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 303 فوجی اہلکار جبکہ 322 شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

 

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اسی عرصے کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ان کے مطابق فورسز نے اوسطاً روزانہ 194 انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کیے جبکہ روزانہ تقریباً 10 دہشت گرد مارے گئے۔

 

انہوں نے کہا کہ رواں سال اب تک ملک میں 28 خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول ٹانک اور کراچی میں ہونے والے بعض حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جن کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے باعث ان پر دباؤ بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اب نرم اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "فتنۃ الخوارج"، "فتنۃ الہندوستان" اور ان کے مبینہ بھارتی ہینڈلرز سیکیورٹی فورسز کا مقابلہ نہ کر سکنے کے باعث شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی طرف مائل ہوئے ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 178 شہری ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گردوں نے 24 مقامات پر پلوں اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا اور 60 مقامات پر آگ لگانے کے واقعات پیش آئے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں ترقیاتی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے اور عوام میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش ہیں۔

 

بلوچستان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بعض حلقے جان بوجھ کر صوبے کے حالات کے بارے میں منفی تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض بااثر طبقات اور سردار بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ بن رہے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ عام اور غریب طبقے کے لوگ آگے بڑھیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ریاست بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور انہی سے بات کرے گی، نہ کہ ان عناصر سے جو ذاتی مفادات کی خاطر صوبے کی ترقی کی مخالفت کرتے ہیں۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان میں آئین اور قانون سب کے لیے یکساں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "ہارڈ اسٹیٹ" کا مطلب فوجی حکمرانی نہیں بلکہ آئین اور قانون کی مکمل بالادستی ہے، جہاں تمام ریاستی ادارے اپنے اپنے آئینی دائرۂ اختیار میں کام کرتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ وفادار رہے کیونکہ ریاست کے استحکام سے ہی جمہوریت، سیاست، معیشت اور دیگر قومی ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔

 

پریس بریفنگ کے اختتام پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان ہی تمام شہریوں کی "پہلی اور آخری پہچان" ہے اور قومی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C