21/May/2026

روس اور چین کا مشترکہ اعلامیہ: دنیا “جنگل کے قانون” کی طرف بڑھ رہی ہے

👁️ 569 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روس اور چین کا مشترکہ اعلامیہ: دنیا “جنگل کے قانون” کی طرف بڑھ رہی ہے

روس اور چین کا مشترکہ اعلامیہ: دنیا “جنگل کے قانون” کی طرف بڑھ رہی ہے

بیجنگ (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز)  روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے ملاقات کے دوران کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات 'غیر معمولی طور پر بلند سطح‘ تک پہنچ چکے ہیں۔ ٹرمپ کے دورے کے چند دنوں بعد پوٹن بیجنگ پہنچے ہیں۔

 

روسی میڈیا کی جاری کردہ ویڈیو کے مطابق پوٹن نے شی جن پنگ سے کہا، ''آج ہمارے تعلقات ایک غیر معمولی بلند سطح تک پہنچ چکے ہیں اور حقیقی جامع شراکت داری اور اسٹریٹیجک تعاون کی مثال بن چکے ہیں۔‘‘

 

ماہرین کے مطابق، مختصر وقفے میں ٹرمپ اور پوٹن کے ہونے والے ان دوروں نے بیجنگ کے ایک ابھرتی ہوئی عالمی سپر پاور کے طور پر کردار کو نمایاں کیا ہے۔

 

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، شی جن پنگ نے بھی دونوں ممالک کے درمیان ''سیاسی باہمی اعتماد اور اسٹریٹیجک تعاون‘‘ کو عالمی استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔ دونوں رہنما ماضی میں بھی ایک دوسرے کی قریبی دوستی کا اظہار کرتے رہے ہیں اور شی جن پنگ ایک بار پوٹن کو اپنا ''بہترین اور نہایت قریبی دوست‘‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔

 

پوٹن کے دو روزہ دورۂ بیجنگ کے دوران مختلف تعاون کے معاہدوں پر دستخط ہونے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق، اس دورے کا مقصد صرف نئے معاہدوں پر دستخط کرنا نہیں بلکہ دنیا کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ دونوں ممالک عالمی سیاست میں ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار ہیں۔

 

لندن یونیورسٹی میں چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر اسٹیو سانگ نے کہا کہ اس دورے کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے، ''پیغام بالکل واضح ہے کہ چین جس عالمی طاقت کے ساتھ چاہے دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری برقرار رکھ سکتا ہے اور امریکہ ان میں سے محض ایک ہے۔‘‘

 

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کے سینیئر چائنا فیلو ولی لیم کے مطابق، پوٹن اور شی اپنے اپنے ممالک میں سیاسی حمایت مضبوط کرنے کے لیے اس قریبی تعلق کا استعمال کرنا چاہتے ہیں، ''پوٹن اپنے عوام اور دنیا کو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ روس کو چین کی حمایت حاصل ہے۔‘‘ پوٹن اور شی جن پنگ اب تک 40 سے زائد بار ملاقات کر چکے ہیں۔

 

روس اور چین نے ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا کہ دنیا دوبارہ ''جنگل کے قانون‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں طاقتور ممالک کمزور ریاستوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

کریملن کی جانب سے روسی زبان میں جاری اعلامیے میں کہا گیا، ''عالمی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔‘‘ اعلامیے میں مزید کہا گیا،''عالمی امن اور ترقی کا ایجنڈا نئے خطرات اور چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ چند ممالک کی جانب سے یکطرفہ طور پر عالمی معاملات کو کنٹرول کرنے، اپنی خواہشات پوری دنیا پر مسلط کرنے اور نوآبادیاتی دور کی سوچ کے تحت دیگر ممالک کی خودمختار ترقی کو محدود کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔‘‘

 

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق، شی جن پنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں ''مکمل جنگ بندی‘‘ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پوٹن نے شی سے کہا کہ روس امریکہ سمیت اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

 

کریملن نے روسی سرکاری میڈیا کو بتایا کہ بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران اربوں ڈالر مالیت کے نئے 'پاور آف سائبیریا 2‘ گیس پائپ لائن منصوبے کے حوالے سے کسی معاہدے تک نہیں پہنچا جا سکا۔

 

2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے اقتصادی طور پر چین پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث، ماسکو کئی برسوں سے اس پائپ لائن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم بیجنگ کی ہچکچاہٹ کے سبب پیش رفت سست رہی ہے۔

اس منصوبے کے تحت شمالی سائبیریا سے منگولیا کے راستے چین تک تقریباً 2,600 کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھائی جائے گی۔

 

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی میڈیا کو بتایا کہ اگرچہ دونوں فریقین کے درمیان 'بنیادی سمجھوتا‘ہو چکا ہے، جس میں 'روٹ اور تعمیر کے طریقۂ کار‘پر اتفاق شامل ہے، لیکن ابھی تک کوئی 'واضح ٹائم لائن‘موجود نہیں اور 'کچھ تفصیلات پر مزید کام ہونا باقی ہے۔‘

 

چین نے ابھی تک اس منصوبے میں نسبتاً کم دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ کہا جا رہا ہے کہ روس کو امید تھی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی توانائی کی غیر یقینی صورتحال کے بعد بیجنگ کا مؤقف تبدیل ہو جائے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C