28/October/2025

صحافی امتیاز میر ہلاکت کیس: ایرانی حمایت یافتہ زینبیون بریگیڈ کے 4 دہشت گرد گرفتار

👁️ 408 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
صحافی امتیاز میر ہلاکت کیس: ایرانی حمایت یافتہ زینبیون بریگیڈ کے 4 دہشت گرد گرفتار

صحافی امتیاز میر ہلاکت کیس: ایرانی حمایت یافتہ زینبیون بریگیڈ کے 4 دہشت گرد گرفتار

کراچی (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کے حساس اداروں اور سندھ پولیس نے معروف صحافی اور اینکر پرسن امتیاز میر کے ہلاکت کیس میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے ایرانی حمایت یافتہ شیعہ تنظیم "لشکرِ ثاراللہ" سے تعلق رکھنے والے چار دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

 

اس سلسلے میں وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کراچی پولیس آفس میں اہم پریس کانفرنس کی، جس میں ملزمان سے کی گئی تفتیش کی تفصیلات بیان کی گئیں۔

 

وزیر داخلہ سندھ نے بتایا کہ ضلع کورنگی پولیس نے وفاقی حساس ادارے کے تعاون سے کارروائی کرتے ہوئے واردات میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جن میں مرکزی شوٹر سید اجلال زیدی بھی شامل ہے۔

 

ملزمان نے پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا کہ انہوں نے صحافی امتیاز میر کو اسرائیل کے حق میں پروگرام کرنے پر فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔ یہ انکشاف انہوں نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڑھو، ڈی آئی جی ایسٹ اور دیگر پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا۔

 

حکام کے مطابق گرفتار ملزمان میں سید اجلال زیدی ولد سعید زیدی، شباب ولد اصغر، احسن عباس ولد جلیل حسین، اور فراز احمد ولد منظور احمد شامل ہیں۔

 

ملزمان کے قبضے سے چار نان ایم ایم پستول اور دو موٹر سائیکلیں برآمد کی گئی ہیں۔

 

تحقیقاتی اداروں کے مطابق دورانِ تفتیش ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ کراچی میں مزید دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

 

ملزمان کے غیر ملکی رابطے بھی سامنے آئے ہیں، اور بتایا گیا ہے کہ تنظیم کا مرکزی سربراہ ایران میں مقیم ہے، جہاں سے انہیں مالی معاونت اور ٹارگٹ کی فہرستیں فراہم کی جاتی تھیں۔

 

واضح رہے کہ میٹرو نیوز ٹی وی سے وابستہ اینکر پرسن امتیاز میر گزشتہ ماہ اپنے بھائی کی گاڑی میں گھر جا رہے تھے جب نیشنل ہائی وے پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار چھ حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔

 

امتیاز میر کو متعدد گولیاں لگیں، انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔

 

شبیر طوری کے مطابق امتیاز میر ان صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔

 

تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ "لشکرِ ثاراللہ" دراصل ایرانی حمایت یافتہ شیعہ تنظیم "زینبیون بریگیڈ" کی ایک ذیلی شاخ ہے۔

 

واضح رہے کہ "لشکرِ ثاراللہ" اور "مہدی فورس" بھی زینبیون بریگیڈ سے وابستہ ہیں اور ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہی ہیں۔

 

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ خبر سب سے پہلے ڈیلی اردو کے چیف ایڈیٹر شبیر حسین طوری نے بریک کی تھی، تاہم اُس وقت کراچی پولیس نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایسی کسی تنظیم کا وجود نہیں ہے۔ آج پولیس اور حساس اداروں کی کارروائی نے شبیر حسین طوری کی خبر کی تصدیق کر دی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C