طالبان کے دو سالہ اقتدار میں 200 سے زائد افغان فوجیوں کو مارا گیا، اقوام متحدہ
👁️ 81 بار دیکھا گیا
طالبان کے دو سالہ اقتدار میں 200 سے زائد افغان فوجیوں کو مارا گیا، اقوام متحدہ
نیو یارک (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے پی) اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک سابق افغان حکومتی اور سکیورٹی فورسز کے دو سو سے زائد اہلکاروں کا ماورائے عدالت قتل کیا جا چکا ہے۔
منگل بائیس اگست کو اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق دو سال قبل افغانستان میں طالبان کے کابل پر قبضے اور دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 200 سے زائد سابق حکومتی اور سکیورٹی اہلکاروں کا ماورائے عدالت قتل ہوا۔ افغانستان میں یو این اسیسٹنس فورسز نے طالبان جنگجوؤں کا سب سے زیادہ نشانہ بننے والے گروپوں کے ضمن میں بتایا کہ ان کا تعلق سابق فوج اور پولیس سے تھا۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 اگست 2021ء سے لے کر رواں سال یعنی 2023 ء کے جون کے ماہ کے اواخر تک سابق افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کے سابق اہلکاروں کے ساتھ 800 سے زائد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویز کیا گیا ہے۔ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے حتمی انخلاء کے ساتھ ہی طالبان نے پورے افغانستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ امریکہ کی تربیت یافتہ اور حمایت یافتہ افغان افواج تباہ ہو گئیں اور طالبان کی پیش قدمی جس شدت سے ہوئی اُس کے نتیجے میں سابق افغان صدر اشرف غنی جان بچا کر ملک سے فرار ہو گئے۔
اقوام متحدہ کی اس تازہ ترین رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ،”افغانستان میں افراد کو ڈی فیکٹو طالبان سکیورٹی فورسز قتل کرنے سے پہلے حراست میں لیا کرتے تھے، اکثر مختصر عرصے کے لیے اور اُس کے بعد انہیں حراست کے دوران موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے۔ بعض کیسز میں ان افراد کو کسی نامعلوم مقام پر لے جاتے اور وہاں ان کو قتل کر کے یا تو ان کی لاش ان کی فیملی کے حوالے کر دیتے یا لاش کو کسی مقام پر دفن کر دیتے تھے۔
اقوام متحدہ کی اس مذکورہ رپورٹ کی اشاعت کیساتھ ساتھ یو این ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر ترک نے ایک پریس ریلیز جاری کی جس میں انہوں نے سابق افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز سے منسلک افراد کے ساتھ طالبان کے اس بہیمانہ سلوک کی سنجیدہ تصویر کشی کی ہے۔ فولکر ترک کے بقول، ”اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ تھا کہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔ انہیں نشانہ نہیں بنایا جائے گیا، یہ لوگوں کے اعتماد کے ساتھ خیانت ہے۔‘‘
ترک نے افغانستان کے موجودہ طالبان حکمرانوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں، انسانی حقوق کی مزید خلاف ورزیوں کو روکنے اور مجرموں کو پکڑ کر انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیں۔‘‘
کابل پر دوبارۃہ قبضے اور اقتدار میں آنے کے بعد سے طالبان کو کوئی خاطر خواہ مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ دریں اثناء طالبان کی زیر قیادت افغان وزارت خارجہ نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طالبان اہلکار یا ملازمین کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کسی بھی معاملے سے لاعلم تھے۔ ایک بیان میں کہا گیا، ”امارت اسلامیہ کے اداروں کے ملازمین اور سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے سابق حکومت کے ملازمین اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے خلاف مقدمے کے بغیر یا ماورائے عدالت قتل، حراست، تشدد اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاں رپورٹ نہیں کی گئیں۔‘‘
یو این اے ایم اے نے سابق حکومتی اہلکار اور افغان سکیورٹی فورس کے ارکان کی جبری گمشدگی کے کم از کم 14 واقعات کو دستاویز کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو اکتوبر 2021ء کو مغربی صوبہ ہرات کی خواتین کی جیل کی سربراہ عالیہ عزیزی کام سے گھر واپس نہیں آئیں۔ ان کا محل وقوع اب تک نامعلوم ہے۔ مبینہ طور پر تحقیقات شروع کیے جانے کے باوجود ان کی گمشدگی کی تحقیقات طالبان نے جاری نہیں کیں اور نہ ہی ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی بھی معلومات موجود ہے۔
اقوام متحدہ نے سابق حکومتی اہلکاروں اور افغان سکیورٹی فورسز کے ارکان کی 424 سے زیادہ صوابدیدی گرفتاریوں اور حراستوں کو دستاویزی شکل دی ہے۔ جبکہ تشدد اور ناروا سلوک کے 144 سے زائد واقعات پیش آنے کو ریکارڈ کیا گیا ہے، جن میں پائپ یا کیبلز سے مارنے پیٹنے، زبانی دھمکیوں اور حراساں کرنے کے واقعات کے علاوہ دیگر بدسلوکی کے واقعات بھی شامل ہیں۔
طالبان نے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ابتدائی طور پر سابق حکومت اور بین الاقوامی افواج سے منسلک افراد کے لیے عام معافی کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان وعدوں کو برقرار نہیں رکھا گیا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 187 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 248 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 155 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 133 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 243 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 286 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8969 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4826 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3583 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3580 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2570 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2322 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C