فسادات کے شکار ضلع کرم میں فضائی راستے سے امداد کی فراہمی
👁️ 72 بار دیکھا گیا
فسادات کے شکار ضلع کرم میں فضائی راستے سے امداد کی فراہمی
پشاور (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی پی اے) خیبر پختونخوا میں فرقہ وارانہ فسادات کے شکار ضلع کرم میں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کے لیے ہنگامی فضائی امداد فضائی راستے آج سترہ دسمبر بروز منگل پاڑا چنار پہنچا دی گئی۔ اس دور دراز پہاڑی علاقے میں جاری فرقہ وارانہ جھڑپوں میں جولائی سے لے کر اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
افغانستان کی سرحد سے متصل ضلع کرم کے کچھ حصوں میں رہائشیوں نے خوراک اور ادویات کی شدید قلت کی اطلاع دی ہے، جہاں حکومت زرعی زمینوں پر کئی دہائیوں پرانی کشیدگی سے پیدا ہونے والے سنی اور شیعہ مسلمانوں کےمابین دوبارہ شروع ہونے والے جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ فضائی راستے سے امداد پاڑا چنار پہنچنے کےبعد نجی فلاحی تنظیم ایدھی کے ڈائریکٹر فیصل ایدھی نے کہا،”دو مریضوں کو جنہیں فوری سرجری کی ضرورت ہے، واپس پشاور شہر پہنچایا جائے گا۔‘‘
ان کا مزیدکہنا تھا کہ ہفتے بھر میں ”مزید پروازیں واپس آتی رہیں گی۔‘‘ ایدھی کا کہنا تھا کہ ادویات بھی فراہم کی جائیں گی۔ اس علاقے میں لڑائی کا تازہ ترین دور شروع ہونے کے بعد سے مختلف مواقعوں پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے، دونوں فریقین کے عمائدین ایک دیرپا معاہدے پر بات چیت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکومت نے تشدد کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش میں نومبر سے ضلع کے اندر اور باہر کی اہم سڑکوں کو بند کر دیا ہے۔ یہ بندش علاقے کے رہائشیوں کو لے جانے والے ایک سکیورٹی قافلے پر حملہ میں 40 سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد سے جاری ہے۔ کرم میں پھنسے ایک رہائشی منور حسین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ”روڈ بلاک ہونے کی وجہ سے نظام درہم برہم ہے، خوراک کی کمی ہے اور زخمی شدید تکلیف میں ہیں۔‘‘
ایک اور رہائشی شاہد کاظمی نے عمائدین کی کونسل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا، ”کئی دنوں سے جاری جرگے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، جس سے مقامی لوگوں میں مایوسی پھیل گئی ہے۔‘‘ علاقے میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ شیعہ کمیونٹی کے ارکان کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ ضروری خدمات تک پہنچنے کے لیے انہیں سنی اکثریت والے محلوں سے گزرنا ہو گا۔
21 نومبر سے اب تک جاری جھڑپوں میں کم از کم 133 افراد ہلاک اور 177 زخمی ہو چکے ہیں۔
پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن نے کہا کہ جولائی اور اکتوبر کے درمیان خطے میں 79 افراد مارے گئے۔ کرم 2018ء سے پہلے وفاق کے زیر انتظام نیم خود مختار قبائلی علاقوں کا حصہ تھا، پھر اسے دیگر قبائلی علاقوں کے ہمراہ خیبر پختونخوا میں ضم کر دیا گیا تھا۔ یہاں انتظامیہ کو ہمیشہ سے امن وامان کے قیام میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے۔
اس ناہموار پہاڑی علاقے میں عام طور پر لڑائیاں زمین کے تنازعات کی وجہ سے شروع ہوتی ہیں اور پھر شیعہ سنی تنازعے میں بدل جاتی ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 83 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 91 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 117 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 134 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 103 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4601 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2466 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2119 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C