مئی کی لڑائی میں 6 پاکستانی طیارے مار گرائے، بھارتی ایئر چیف کا دعویٰ
👁️ 400 بار دیکھا گیا
مئی کی لڑائی میں 6 پاکستانی طیارے مار گرائے، بھارتی ایئر چیف کا دعویٰ
نئی دہلی + اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی/اے این آئی) انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ کا دعویٰ ہے کہ رواں سال مئی میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران انڈیا نے پاکستان کے کم از کم چھ طیارے مار گرائے تھے۔
ایئر چیف مارشل سنیچر کے روز کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں ’آپریشن سندور‘ سے متعلق معلومات فراہم کر رہے تھے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن میں پاکستان کے پانچ لڑاکا طیارے اور ایک بڑا طیارہ مار گرایا گیا۔
واضح رہے کہ 22 اپریل کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر شدت پسند حملے کے بعد انڈیا نے کہا تھا کہ 6-7 مئی کی درمیانی شب کو اس نے پاکستان میں شدت پسندوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا، جس کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع شروع ہوا تھا۔
امریکی صدر نے ایک تقریب کے دوران ’انڈیا پاکستان جنگ رُکوانے‘ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس دوران ’پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے گئے‘ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ طیارے کس ملک کے تھے اور کس ملک نے گِرائے۔
خیال رہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے بعد سے انڈیا کی اپوزیشن جماعت کانگریس اور اس کے رہنما راہل گاندھی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور وزیرِ خارجہ جے شنکر سے یہ سوال بارہا پوچھتے رہے ہیں کہ انڈیا نے اس لڑائی میں کتنے طیارے کھوئے۔
انڈیا نے اس تنازع میں اپنے طیارے گرائے جانے کے حوالے سے کبھی کوئی واضح بیان نہیں دیا تاہم انڈین مسلح افواج کے چیف آف ڈیفینس سٹاف انیل چوہان نے پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے دعوؤں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی فروری 2019 میں بھی انڈیا نے پاکستان میں شدت پسند تنظیم کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانے کا دعوی کیا تھا۔ اس کارروائی کے 24 گھنٹے کے اندر ہی پاکستان نے ایک انڈین مگ-21 جنگی طیارہ مار گرایا اور انڈین فضائیہ کے پائلٹ ابھینندن کو گرفتار کر لیا جسے بعد میں رہا کر دیا گيا۔
اس کارروائی میں بھی انڈیا نے پاکستانی ایف 16 جیٹ گرانے کا دعوی کیا تھا تاہم امریکہ نے اس کے بعد پاکستان میں تمام طیاروں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔
واضح رہے کہ غیرملکی فوجی طیاروں کی فروخت پر استعمال کے معاہدے کے مطابق امریکہ پاکستان میں موجود ایف 16 طیاروں کی گنتی کر سکتا ہے۔ عموماً اس قسم کے معاہدوں میں امریکہ کی شرط ہوتی ہے کہ خریدنے والا ملک امریکی حکام کی جانب سے سازوسامان کا باقاعدگی سے معائنہ کروائے تاکہ سازوسامان کی گنتی اور حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
انڈیا اور پاکستان کے طیارے تباہ کرنے کے دعوے
سنچیر کو انڈین ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا کہ انڈیا کی جانب سے مار گرایا جانے والا ’یہ بڑا طیارہ ای ایل آئی این ٹی یا اے ای ڈبلیو اینڈ سی ہو سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس طیارے کو زمین سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا اور ایک طرح سے یہ زمین سے فضا میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا حملہ تھا۔‘
واضح رہے کہ انڈیا کی جانب سے اب تک کسی قسم کے پاکستانی طیاروں کے گرائے جانے سے متعلق کوئی تصویری یا ویڈیو شواہد بھی پیش نہیں کیے گئے۔
دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ انڈین فضائیہ کے پانچ گرائے جانے والے طیاروں میں سے ’تین رفال طیارے تھے جبکہ ایک مگ 29 لڑاکا طیارہ اور ایک ایس یو طیارہ شامل ہے۔‘
یاد رہے کہ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوز کی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعوی کیا گیا تھا کہ ان میں نظر آنے والا ملبہ ایک فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کا ہے جو انڈیا کی فضائیہ کے زیراستعمال ہیں۔
ان میں سے ایک ویڈیو کی جیو لوکیشن سے بی بی سی ویریفائی کو علم ہوا تھا کہ یہ انڈین ریاست پنجاب میں بھٹنڈہ کے مقام کی ہے۔ اس ویڈیو میں یونیفارم میں ملبوس اہلکار لڑاکا طیارے کا ملبہ اکھٹا کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔
بی بی سی ویریفائی نے رات کے وقت بنائی جانے والی دو مزید ویڈیوز کو بھی چیک کیا اور یہ بھی اسی مقام پر بنی ہیں۔ ان میں سے ایک میں کھیتوں میں موجود ملبہ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک اور ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اڑنے والی چیز کو پہلے آسمان میں آگ لگتی ہے اور پھر وہ ایک کھلے کھیت میں گرتی ہے۔
جسٹن کرمپ برطانوی فوج کے سابق افسر ہیں جو اب رسک انٹیلیجنس کمپنی سبیلائن چلاتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی ویریفائی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والا یہ ملبہ فرانسیسی میزائل کا لگتا ہے جو میراج دو ہزار اور رفال لڑاکا طیاروں، دونوں میں ہی استعمال ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک اور تصویر میں ایک لڑاکا طیارے کی ٹیل فن، جس پر بی ایس زیرو زیرو ون اور رفال لکھا ہوا ہے، دیکھی جا سکتی ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے اس تصویر کو جانچنے کے لیے گوگل ریورس امیج کا استعمال کیا تو معلوم ہوا کہ اس تصویر کا اس سے پہلے کوئی اور ورژن نہیں۔
ایئر چیف مارشل نے اور کیا کہا؟
انڈین ایئر چیف نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تنازع کو ’ہائی ٹیک جنگ‘ بھی قرار دیا۔
’میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایک ہائی ٹیک جنگ تھی جو ہم نے لڑی۔ یہ جنگ تقریباً 80-90 گھنٹے تک جاری رہی۔ اس میں ہم نے ان (پاکستان) کے فضائی دفاعی نظام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔‘
’اس نقصان کو دیکھ کر ان پر واضح تھا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو انھیں مزید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اسی لیے وہ آگے آئے اور ہمارے ڈی جی ایم او کو دوبارہ پیغام بھیجا کہ ہم بات کرنا چاہتے ہیں۔ اسے اعلیٰ سطح پر قبول کر لیا گیا۔‘
اے پی سنگھ کا دعویٰ تھا کہ اکثر پاکستانی طیارے زمین سے فضا تک مار کرنے والے روسی ساختہ ایس 400 ایئر میزائل سسٹم کے ذریعے تباہ کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے جس بڑے پاکستانی طیارے کو مار گرایا وہ ممکنہ طور پر جاسوسی کرنے والا طیارہ تھا اور اسے 300 کلو میٹر کی دوری سے مار گرایا گیا۔
انھوں نے ایس 400 کو ’گیم چینجر‘ قرار دیا اور کہا کہ حریف اس نظام کو ناکام نہیں بنا سکا۔
انڈین ایئر چیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کامیابی کی وجہ ’واضح سیاسی ارادہ‘ تھا۔ ’ہم پر کوئی (سیاسی) رکاوٹ نہیں تھی۔ بدقسمتی سے ہر کوئی اس بارے میں بات کر رہا ہے۔۔۔ فورسز نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم نے کیسے تناؤ کو کم رکھنا ہے۔‘
’ہم پر کوئی (سیاسی) رکاوٹ نہیں تھی۔ ہمیں مکمل آزادی دی گئی تھی۔‘
خیال رہے کہ جون میں جکارتہ میں قائم انڈین سفارتخانے نے ایک وضاحت جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ انڈونیشیا میں انڈیا کے ڈیفنس اتاشی کے ایک بیان کو میڈیا میں ’سیاق و سباق سے ہٹ‘ کر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
اپنی پریزینٹیشن میں انڈین ڈیفنس اتاشی شیو کمار نے کہا تھا کہ ’ہم نے چند طیارے ضرور کھوئے اور یہ صرف انڈیا کی سیاسی قیادت کی اس پابندی کی وجہ سے ہوا تھا۔‘
پاکستانی وزیر دفاع کا ردعمل
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے انڈین ایئر چیف کے دعوے کو ’ناقابلِ یقین‘ قرار دیا اور کہا کہ ’تین ماہ تک ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا۔‘
ان کا دعویٰ تھا کہ ’انڈین فوج کے سینیئر افسران کو انڈین سیاستدانوں کی ناکامی چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
خواجہ آصف نے کہا کہ ’اگر سوال سچ کا ہے تو دونوں فریقین آزادانہ جائزے کے لیے اپنے طیاروں کی انونٹریوں کو منظر عام پر لائیں۔ لیکن ہمیں شک ہے کہ یہ اس حقیقت کو عیاں کرے گا جو انڈیا چھپانا چاہتا ہے۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بنوں کے علاقے زروم میں دہشتگردوں کے ٹھکانے پر کارروائی، 5 ہلاک، 7 زخمی
20/October/2026 👁️ 34 بار دیکھا گیا
پاکستان اور قطر کا داخلی سلامتی اور سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
20/October/2026 👁️ 35 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں دو تیل بردار جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے،جہازوں میں آگ لگ گئی، پاسداران انقلاب ایران کا دعویٰ
20/October/2026 👁️ 55 بار دیکھا گیا
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے لیے تہران پہنچ گئے، امریکا ایران ثالثی پر بات چیت متوقع
20/October/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
ایرانی سپریم لیڈر ایٹم بم بنانے اور جوہری عدم پھلاؤ کے معاہدے سے نکلنے کا حکم دے سکتے ہیں ، ایرانی مشیر قومی سلامتی
20/October/2026 👁️ 102 بار دیکھا گیا
ایران کے کونارک بحری اڈے پر مبینہ امریکی حملہ، دو فوجی زخمی؛ واشنگٹن نے دعوے کی تردید کردی
20/October/2026 👁️ 104 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26388 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15624 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11919 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9273 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7532 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5486 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C