میانمار میں فوجی تربیت کے خوف سے نوجوان بیرون ملک بھاگنے لگے
👁️ 78 بار دیکھا گیا
میانمار میں فوجی تربیت کے خوف سے نوجوان بیرون ملک بھاگنے لگے
ینگون (ڈیلی اردو/اے ایف پی/ڈی ڈبلیو) ملٹری سروسز کے قانون کے نفاز کے اعلان کے بعد سے ہزاروں نوجوان میانمار سے نکلنے کے لیے ملک کے سب سے بڑے شہر ینگون میں تھائی سفارت خانے کا رخ کر رہے ہیں۔
میانمار میں حکمران فوجی جنتا نے گزشتہ ہفتے ملٹری سروس کے قانون کے نفاز کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اٹھارہ سے پینتیس سال کی عمر کے تمام مردوں اور اٹھارہ سے ستائیس سال کی عمروں کی خواتین کے لیے کم از کم دو سال تک فوج میں خدمات انجام دینا لازمی قرار دیا گیا۔
اس قانون کا مقصد فوجی حکومت کی جانب سے جمہوری جدوجہد کرنے والے گروپوں کی بغاوت کچلنا ہے۔ میانمار میں فوج کو منتخب سویلین حکومت سے اقتدار چھیننے کے تین سال بعد وسیع پیمانے پر ایک مسلح جدوجہد کا سامنا ہے۔ حال ہی میں نسلی اقلیتی گروہوں کے ایک مسلح اتحاد نے فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
ینگون میں جمعے کے روز تھائی سفارت خانے کے باہر ہزاروں مرد اور خواتین میانمار سے نکلنے کے لیے قطار در قطار اپنی باری کے انتظار میں ہیں۔ جبکہ اس نئے قانون کے اعلان سے قبل یہ تعداد یومیہ 100 افراد سے بھی کم تھی۔
سفارت خانے کے عملے کے مطابق وہ اس وقت یومیہ صرف 400 افراد کو ہی سروسز فراہم کر سکتے ہیں۔
20 سالہ طالب علم آنگ فیو (فرضی نام) نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ وہ گزشتہ رات آٹھ بجے سفارت خانے پہنچے اور انہوں نے پوری رات اپنی گاڑی میں گزاری تا کہ وہ جمعے کے دن ویزے کے لیے قطار میں لگ سکیں۔
اس نوجوان کے مطابق، “یہاں کئی گھنٹے انتظار کرنے کو بعد پولیس کی جانب سے رات کو تین بجے لوگوں کے لیے حفاظتی گیٹ کھولا گیا اور ہمیں ٹوکن حاصل کرنے لے لیے سفارت خانے کی طرف بھاگنا پڑا۔”
میانمار کی سابقہ فوجی حکومت نے 2010ء میں لازمی فوجی تربیت کا قانون متعارف کرایا تھا تاہم اس وقت اس قانون کا نفاز نہیں کیا جا سکا تھا۔ موجودہ فوجی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے اس نئے قانون کے بارے میں بھی اب تک تفصیلات عام نہیں کی گئیں، جن سے یہ معلوم ہو سکے کہ آیا ملٹری سروس کے لیے بلائے گئے لوگوں سے فوجی حکومت کو کس طرح کی خدمات کی توقعات وابستہ ہیں۔ تاہم نوجوان اس انتظار سے قبل ہی ملک چھوڑنے کے خواہشمند ہیں۔
آنگ فیو نے کہا کہ وہ سیاحتی ویزہ لے کر بنکاک جائیں گے اور یہ کہ وہ امید کرتے ہیں کہ کچھ عرصہ وہیں پر گزاریں گے۔
اس وقت حکومت کی جانب سے فوج کی حامی ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ وہ ملک بھر میں اپنے مخالفین جیسے کہ ‘پیپلز ڈیفنس فورسز‘ اورنسلی اقلیتوں کے گرہوں سے مقابلہ کر سکیں۔
میانمار میں فوجی حکومت کے ترجمان زاؤ من ٹون نے حال ہی میں کہا تھا، ”ہمارے ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کی وجہ سے ملٹری سروسز کے سسٹم کی ضرورت تھی۔‘‘
ایک مقامی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق فروری 2021ء کی فوجی بغاوت کے بعد سے اختلاف رائے پر فوج کے کریک ڈاؤن میں 4,500 سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں اور 26,000 سے زائد کو گرفتار کیا جا چا ہے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
ہنگو میں آئی ای ڈی دھماکہ، معروف قبائلی رہنما حاجی عزت گل ہلاک
22/July/2026 👁️ 225 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں دہشت گردوں نے سرکاری سکول بارودی مواد سے تباہ کردیا
22/July/2026 👁️ 278 بار دیکھا گیا
امریکہ کے ایرانی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملے
22/July/2026 👁️ 179 بار دیکھا گیا
ایرانی وزیر داخلہ کی وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں
22/July/2026 👁️ 157 بار دیکھا گیا
بلوچستان: مستونگ میں جھڑپوں کے دوران مسجد اور مدرسہ تباہ، تحقیقات کا مطالبہ
22/July/2026 👁️ 266 بار دیکھا گیا
حماس نے خلیل الحیہ کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کر دیا
22/July/2026 👁️ 322 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8970 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4830 بار دیکھا گیاسعودی عرب کا پاکستانی شہریوں کیلئے ویزا فیسوں میں کمی کا اعلان
16/February/2019 👁️ 3667 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3581 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2570 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2324 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C