24/February/2026

میکسیکو میں ڈرگ لارڈ ’ایل مینچو‘ کی ہلاکت پر انتقامی حملوں میں 25 فوجی ہلاک

👁️ 243 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
میکسیکو میں ڈرگ لارڈ ’ایل مینچو‘ کی ہلاکت پر انتقامی حملوں میں 25 فوجی ہلاک

میکسیکو میں ڈرگ لارڈ ’ایل مینچو‘ کی ہلاکت پر انتقامی حملوں میں 25 فوجی ہلاک

میکسیکو سٹی (ڈیلی اردو) اوسیگیرا میکسیکو کا سب سے زیادہ مطلوب ڈرگ لارڈ اور طاقت ور ہالسکو نیو جنریشن کارٹل (سی جے این جی) کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ 

 

میکسیکو کی وزارت دفاع کے مطابق ریاست خالسکو کے قصبے ٹاپالپا میں میکسیکن اسپیشل فورسز کی ایک مسلح کارروائی کے دوران زخمی ہونے کے بعد وہ دوران حراست دم توڑ گیا۔

 

میکسیکو کے وزیر دفاع ریکارڈو تروییا نے پیر کے روز کہا کہ اوسیگیرا کی ایک ’دوست‘ کے ذریعے ملنے والی معلومات اس کی گرفتاری میں معاون ثابت ہوئیں۔ امریکہ نے اس کی گرفتاری سے متعلق معلومات دینے پر 15 ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کر رکھا تھا۔

 

اس ڈرگ لارڈ کی موت کے بعد پورے میکسیکو میں تشدد کی لہر دوڑ گئی، جہاں کارٹل کارندوں نے سڑکیں بند کیں، گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور جوابی حملے کیے۔

 

ہارفوچ نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’ایل مینچو‘ کی ہلاکت کے بعد ’’خالسکو میں حکام کے خلاف 27 بزدلانہ حملے‘‘ کیے گئے۔ 

 

انہوں نے مزید کہا کہ 30 کارٹل کارندے بھی مارے گئے جبکہ ایک راہگیر بھی جان کی بازی ہار گیا۔ ملک کی سات وفاقی ریاستوں میں کم از کم 70 افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔

 

انہوں نے کہا، ’’ہم کارٹل کے اندر کسی بھی ممکنہ ردعمل یا تنظیم نو کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں، جو تشدد کا باعث بن سکتی ہے۔‘‘

 

ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن (ڈی ای اے) کے بین الاقوامی آپریشنز کے ایک سابق سربراہ، مائیک ویجل نے کہا کہ میکسیکو نے ’’ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایک مضبوط پیغام بھیجا ہے کہ وہ طاقتور ترین کارٹلز کے خلاف جارحانہ اور مؤثر انداز میں لڑ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’اگر میکسیکو اور امریکہ مل کر کام کریں، تو یہ دونوں ممالک کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔‘‘

 

سکیورٹی تجزیہ کار ڈیوڈ ساؤسیدو نے کہا کہ اگر ’ایل مینچو‘ کے رشتہ دار کارٹل کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں، تو تشدد کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ اگر کوئی اور اقتدار سنبھالتا ہے، تو وہ نیا باب کھولنے اور کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے زیادہ آمادہ ہو سکتا ہے۔

 

’’سب سے بڑا خدشہ یہ ہو گا کہ کارٹل اندھا دھند تشدد کا راستہ اختیار کر لے۔ وہ نارکو دہشت گردی کے حملے شروع کرنے اور ایسا منظر نامہ پیدا کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں جیسا کہ کولمبیا نے 1990 کی دہائی میں دیکھا تھا، یعنی حکومت کے خلاف مکمل جنگ، کار بم دھماکے، ٹارگٹ کلنگ اور طیاروں پر حملے بھی۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C