25/September/2026

پاکستان افغانستان پر حملے کرکے مکہ دفاعی معاہدے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، ذبیح اللہ مجاہد

👁️ 66 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان افغانستان پر حملے کرکے مکہ دفاعی معاہدے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، ذبیح اللہ مجاہد

پاکستان افغانستان پر حملے کرکے مکہ دفاعی معاہدے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، ذبیح اللہ مجاہد

کابل (ڈیلی اردو) قندھار میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کی حالیہ پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اسلام آباد افغانستان کے خلاف کارروائیاں کرکے خود کو جنگ میں الجھا ہوا ظاہر کرنا اور ملکی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

عینو مینا قندھار میں مدرسہ حمادیہ میں خطاب کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور سعودی عرب بھی اس سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کے بقول پاکستان نے افغانستان پر حملے ایسے وقت میں کیے جب اس سے ایک روز قبل اس نے افغانستان سے پاکستان کی جانب ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا تھا، جسے طالبان حکومت مسترد کرتی ہے۔ مجاہد کے مطابق اسلام آباد ان کارروائیوں کے ذریعے خود کو مکہ دفاعی معاہدے سے الگ کرنے اور عالمی سطح پر افغانستان کے ساتھ جنگ میں مصروف ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ طالبان حکومت کسی دوسرے ملک کے مخالفین کی حمایت نہیں کرتی اور اگر ایسا ہوتا تو موجودہ صورتحال مختلف ہوتی۔ انہوں نے پاکستان کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کے عناصر افغانستان میں موجود ہیں۔ مجاہد کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں میں غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد طالبان حکومت مناسب وقت پر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

دوسری جانب قندھار میں حمادیہ اسلامی فاؤنڈیشن کے سربراہ شیخ عبدالہادی حماد نے پاکستان کی جانب سے افغانستان میں ہونے والی کارروائیوں پر مسلم ممالک، علما اور پاکستانی عوام کے ردعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ سیاسی تجزیہ کار بلال فاطمی اور سید ہارون ہاشمی نے بھی دعویٰ کیا کہ پاکستان ان کارروائیوں کے ذریعے اپنے داخلی مسائل اور عالمی سطح پر درپیش مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں اسے مزید سفارتی مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں فضائی اور ڈرون کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق 24 ستمبر کو افغانستان میں 10 مقامات کو ڈرون حملوں کے جواب میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ افغان حکام نے بعض حملوں میں شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔

طالبان حکومت نے پاکستانی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت پر جواب دے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں سرحدی جھڑپوں اور حملوں کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C