12/September/2025

پاکستان میں انتہاپسندی و نفرت انگیز تقاریر کے تدارک کیلئے نیشنل پیغامِ امن کمیٹی قائم

👁️ 500 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میں انتہاپسندی و نفرت انگیز تقاریر کے تدارک کیلئے نیشنل پیغامِ امن کمیٹی قائم

پاکستان میں انتہاپسندی و نفرت انگیز تقاریر کے تدارک کیلئے نیشنل پیغامِ امن کمیٹی قائم

اسلام آباد (ڈیلی اردو) حکومتِ پاکستان نے ملک میں دہشت گردی، فرقہ واریت، انتہاپسندی اور نفرت انگیز تقاریر کے تدارک کے لیے نیشنل پیغامِ امن کمیٹی (این پی اے سی) قائم کردی ہے، جس میں علما، غیر مسلم برادریوں کے رہنما اور سینئر حکام شامل ہوں گے۔

 

تفصیلات کے مطابق وزارتِ اطلاعات کے تحت قائم اس کمیٹی کو قومی سطح پر امن، ہم آہنگی اور مذہبی اعتدال پسندی کے فروغ کے لیے متحدہ قومی بیانیہ تشکیل دینے کا کام سونپا گیا ہے۔ این پی اے سی، نیشنل کمیٹی برائے نیریٹیو بلڈنگ (این سی این بی) کی ذیلی کمیٹی ہوگی، جس کا نوٹیفکیشن رواں ماہ کے آغاز میں جاری کیا گیا تھا۔

 

نوٹیفکیشن کے مطابق 20 ارکان پر مشتمل این سی این بی میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے وزرائے اطلاعات سمیت وفاقی وزیر اطلاعات، فوج و خفیہ اداروں، وزارتِ خارجہ، وزارتِ آئی ٹی اور پی ٹی اے کے نمائندے شامل ہیں۔ کمیٹی کو میڈیا، ابلاغ اور سائبر نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف قومی بیانیہ تیار کرنے اور اس کا جائزہ لینے کے اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ نیشنل ایکشن پلان 2021 کے ترمیمی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

 

وزارتِ اطلاعات کے انٹرنل پبلسٹی وِنگ کے ڈائریکٹر جنرل کو کمیٹی کا سیکریٹری جبکہ مولانا طاہر اشرفی کو کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں قواعد و ضوابط طے کیے جائیں گے جو بعد ازاں این سی این بی کو منظوری کے لیے پیش ہوں گے۔

 

علامہ عارف واحدی نے نجی ٹی وی چینل ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی پیغامِ پاکستان 2018 کے تسلسل کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جس کا مقصد مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ تھا۔ ان کے مطابق نئی کمیٹی اس سوچ پر عملی اقدامات کرے گی تاکہ معاشرے کو تقسیم کرنے والی قوتوں کو روکا جا سکے۔

مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ یہ اقدام حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ امن قائم کرنے کے لیے جامع اور مؤثر حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے اور ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا چاہتی ہے جو مذہبی، فرقہ وارانہ اور نظریاتی انتہا پسندی کے مختلف پہلوؤں کا مقابلہ کرے۔

 

پیکا مقدمات پر پارلیمانی کمیٹی کی تشویش

 

ادھر، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) پر عمل درآمد کے حوالے سے بریفنگ کے دوران صوبوں کی جانب سے ترامیم کے بعد بھی مقدمات درج کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔

 

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس وقت پیکا کے تحت 10 صحافیوں، 611 مالیاتی فراڈ اور 320 ہراسانی کے کیسز زیرِ تفتیش ہیں۔ حکام کے مطابق پیکا 2025 کی ترامیم کے بعد صوبوں کو اس قانون کے تحت مقدمات درج کرنے کا اختیار نہیں رہا، لہٰذا صوبائی سطح پر درج 378 مقدمات کالعدم قرار پاتے ہیں۔

 

کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سید علی ظفر نے واضح کیا کہ یہ تمام مقدمات غیر قانونی ہیں اور انہیں فوری طور پر واپس لیا جانا چاہیے۔ اراکینِ پارلیمنٹ نے اس معاملے پر نظرِ ثانی کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C