08/July/2026

پاکستان نے لیبیا کے متحارب دھڑوں میں ثالثی کا عمل شروع کر دیا

👁️ 8 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان نے لیبیا کے متحارب دھڑوں میں ثالثی کا عمل شروع کر دیا

پاکستان نے لیبیا کے متحارب دھڑوں میں ثالثی کا عمل شروع کر دیا

اسلام آباد  (ڈیلی اردو/روئٹرز) پاکستان نے خاموش سفارتی کوششوں کے تحت لیبیا کے مشرقی اور مغربی اقتدار کے مراکز کے درمیان ثالثی کا عمل شروع کر دیا ہے

 

خبر رساں ادارے روئٹرز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب کئی ماہ سے امریکہ کی قیادت میں لیبیا کے سیاسی بحران کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

 

روئٹرز سے گفتگو کرنے والے دو پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ رواں سال امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا، جسے امریکی انتظامیہ نے متعدد مواقع پر سراہا۔ ایک ذریعے کے مطابق لیبیا سے متعلق پاکستان کی سفارتی کوششوں سے امریکہ ''مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس عمل میں شامل بھی ہے۔‘‘

 

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ان کوششوں کو سعودی عرب کی حمایت بھی حاصل ہے۔ سعودی عرب طویل عرصے سے لیبیا میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

 

دونوں ذرائع کے مطابق یہ مفاہمتی کوششیں گزشتہ سال کے آخر میں شروع ہوئیں اور لیبیا کے دونوں متحارب فریقوں نے پاکستان سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

 

پاکستان کی وزارت خارجہ، پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ، لیبیا کی مشرقی اور مغربی انتظامیہ، نیز قطر، ترکی، سعودی عرب اور امریکی وزارت خارجہ نے اس خبر پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق لیبیا کو دوبارہ متحد کرنے کے لیے کسی بھی کامیاب منصوبے میں بیرونی طاقتوں کے مختلف مفادات میں توازن پیدا کرنا، سرکاری عہدوں کی تقسیم، انتخابی قواعد اور تیل کی آمدنی سے متعلق دیرینہ تنازعات کا حل ناگزیر ہو گا، کیونکہ ماضی میں یہی مسائل مفاہمتی کوششوں کی ناکامی کا سبب بنتے رہے ہیں۔

 

برطانیہ کے تھنک ٹینک رائل یونائٹیڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار جلال حرشاوی نے کہا کہ امریکہ لیبیا میں سفارتی حل کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے، تاہم جو فریم ورک پیش کیا جا رہا ہے وہ اب بھی غیر واضح اور مکمل طور پر تشکیل نہیں پا سکا۔

 

روئٹرز کو موصول ہونے والے 'لیبیا ری یونیفکیشن پلان‘ کے مطابق 36 ماہ پر مشتمل عبوری اقتدار کی شراکت داری کا نظام قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت 'قومی اتفاق حکومت‘ اور 'صدارتی کونسل‘ کے نام سے نئے ادارے تشکیل دیے جائیں گے۔

 

ذرائع کے مطابق، اگرچہ اس منصوبے کی تفصیلات پر ابھی بات چیت جاری ہے، تاہم مجوزہ فارمولے کے تحت اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ مغربی حکومت حکومتِ قومی اتحاد کے وزیر اعظم عبد الحميد الدبيبة اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے، جبکہ مشرقی لیبیا کی فوج لیبین نیشنل آرمی کے نائب کمانڈر صدام حفتر کو صدارتی کونسل کا چیئرمین بنانے کی تجویز ہے۔

 

مجوزہ منصوبے کے تحت مشرقی لیبیا کی فوج کے سربراہ خلیفہ حفترکو قومی بجٹ پر اختیار دینے کی بھی تجویز شامل ہے۔ خلیفہ حفتر کے زیرِ قیادت دھڑا اس وقت لیبیا کے بڑے تیل کے ذخائر اور اہم تنصیبات پر کنٹرول رکھتا ہے۔

 

ایک پاکستانی ذریعے کے مطابق پاکستان اس مجوزہ سیاسی انتظام کو برقرار رکھنے اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کرے گا، تاہم منصوبے کی حتمی تفصیلات پر ابھی مزید مشاورت جاری ہے۔

 

لیبیا میں مفاہمتی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ ماہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے راولپنڈی میں مشرقی لیبیا کی فوج کے نائب کمانڈر صدام حفتر سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے چند روز بعد صدام حفتر نے واشنگٹن کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے بھی ملاقات کی۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ لیبیا میں اثر و رسوخ کے حوالے سے پاکستان کو امریکہ، متحدہ عرب امارات، مصر اور ترکی کے مقابلے میں نسبتاً ثانوی کردار حاصل ہے، تاہم اسلام آباد کی لیبیا کے دونوں متحارب فریقوں سے روابط اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت فراہم کرتے ہیں۔

 

روئٹرز کے مطابق پاکستانی حکام مشرقی لیبیا کی فوج لیبین نیشنل آرمی کے ساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دیتے رہے ہیں، جس میں اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کے باوجود جے ایف-17 لڑاکا طیاروں اور سپر مشّاق تربیتی طیاروں کی ممکنہ فروخت پر بھی بات چیت شامل رہی ہے۔

 

روئٹرز کی نظر سے گزرنے والی ایک دستاویز کے مطابق مغربی لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومتِ قومی اتحاد نے بھی حال ہی میں پاکستان سے براہِ راست مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے۔

ذرائع کے مطابق قطر اور ترکی جو حکومتِ قومی اتحاد کے اہم حامی ممالک میں شمار ہوتے ہیں، نے بھی پاکستان کو ثالثی کے عمل میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی کی۔

 

تاہم جغرافیائی سیاسی امور کے مشاورتی ادارے انفارمی کے ڈائریکٹر طارق مغریسی نے خبردار کیا کہ اگر کوئی معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے تو اس پر عملدرآمد کی کوئی ضمانت نہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال روانڈا اور ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو کی قیادت کے درمیان ہونے والا معاہدہ بھی چند ہی ماہ میں ناکام ہو گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C