21/September/2025

پینٹاگون نے صحافیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، امریکی پریس تنظیموں کی شدید تنقید

👁️ 455 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پینٹاگون نے صحافیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، امریکی پریس تنظیموں کی شدید تنقید

پینٹاگون نے صحافیوں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں، امریکی پریس تنظیموں کی شدید تنقید

واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے ایف پی/اے پی) امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوجی معاملات کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر نئی سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے تحت رپورٹرز کو صرف وہی معلومات شائع کرنے کی اجازت ہوگی جو سرکاری طور پر منظور شدہ ہوں گی۔

 

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے، جو صحافیوں میں تقسیم بھی کر دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ رپورٹرز کو ایک حلف نامے پر دستخط کرنا ہوں گے، جس میں قواعد کی پابندی کی یقین دہانی شامل ہوگی۔ بصورتِ دیگر وہ اپنے پریس کارڈ سے محروم ہو سکتے ہیں۔

 

خفیہ اور غیر خفیہ دونوں معلومات پر قدغن

 

ہدایت نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی صرف خفیہ معلومات پر ہی نہیں بلکہ ’’کنٹرولڈ غیر خفیہ‘‘ معلومات پر بھی لاگو ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رپورٹرز کسی بھی ایسی خبر کو بغیر سرکاری منظوری کے شائع نہیں کر سکیں گے جو غیر خفیہ ذرائع سے حاصل کی گئی ہو۔ اس اقدام کو مؤثر طور پر غیر نامعلوم ذرائع پر مبنی مواد کی اشاعت روکنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

 

مزید برآں پینٹاگون نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ صحافی محکمہ دفاع کے وسیع ہیڈکوارٹر میں کہاں جا سکتے ہیں اور کہاں نہیں، اس پر بھی باضابطہ پابندیاں لاگو ہوں گی، جب تک کہ ان کے ساتھ کوئی سرکاری اہلکار موجود نہ ہو۔

 

وزیر دفاع کا مؤقف

 

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر لکھا: ’’پریس پینٹاگون نہیں چلاتی بلکہ عوام چلاتے ہیں۔ صحافیوں کو اب اس محفوظ عمارت کی راہداریوں میں آزادانہ گھومنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اپنا بیج پہنیں اور اصولوں کی پابندی کریں، ورنہ گھر چلے جائیں۔‘‘

 

یہ نئے قواعد اس وقت سامنے آئے ہیں جب ہیگسیٹھ کو چند ماہ قبل یمن میں حوثیوں پر امریکی فضائی حملوں کے اوقات ایک سگنل گروپ چیٹ میں ظاہر کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس چیٹ میں غلطی سے ایک صحافی بھی شامل تھا، جس کے بعد پینٹاگون کی سیکیورٹی پالیسی پر سوالات اٹھے تھے۔

 

امریکی میڈیا اور صحافتی تنظیموں کا ردعمل

 

ان پابندیوں پر امریکی میڈیا اور صحافتی تنظیموں نے شدید تنقید کی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے ترجمان نے کہا: ’’یہ عوامی ٹیکس کے خرچ پر امریکی فوج کی سرگرمیوں تک رسائی محدود کرنے کے تشویشناک رجحان کا ایک اور قدم ہے۔‘‘

 

اسی طرح نیشنل پریس کلب کے صدر مائیک بالسامو نے ایک بیان میں کہا: ’’اگر ہماری فوج کے بارے میں خبریں شائع کرنے سے پہلے حکومت کی منظوری ضروری ہے، تو عوام کو آزاد صحافت نہیں مل رہی بلکہ صرف وہی دکھایا جا رہا ہے جو حکام چاہتے ہیں۔ یہ ہر امریکی کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C