’ہم دہشت گردی کاشکار ہیں، اس کے مرتکب نہیں‘، بلاول بھٹو زرداری
👁️ 38 بار دیکھا گیا
’ہم دہشت گردی کاشکار ہیں، اس کے مرتکب نہیں‘، بلاول بھٹو زرداری
نیویارک (ڈیلی اردو/وی او اے) پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آرمی پبلک اسکول پر حملے کی آٹھویں برسی کے موقع پر دنیا کے کئی ملک، متاثرہ خاندانوں اور پاکستان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے ہیں تاہم آج کے دن یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم دہشت گردی کے شکار افراد میں ہیں، ارتکاب کرنے والوں میں نہیں۔
وزیرخارجہ نے ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں پاکستان مشن کی جانب سے اے پی ایس میں مارے جانے والے افراد کی یاد میں منعقدہ تقریب کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس تقریب میں شرکت کرنے والے مختلف ملکوں کے نمائندوں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
’’ ہم نے پاکستان کے اندر دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی آواز یہاں پہنچائی ہے۔ ان تمام ملکوں کے شکرگزار ہیں جنہوں نے آج کے دن ہمارے ساتھ، دہشت گردی کے متاثرین اور پاکستان کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہ‘‘ا،بہت ضروری ہے کہ ہم‘‘ دشتگردی کے شکار افراد کے ساتھ صرف اظہار یکجہتی ہی نہ کریں بلکہ یہ بھی یاد رکھیں کہ ہم کون ہیں۔ ہم دہشت گردی کا شکار ہیں، دہشت گردی کے مرتکب نہیں۔‘‘
وائس آف امریکہ کی ندا سمیر نے ان سےسوال کیا کہ اے پی ایس میں مارے جانے والے طالب علموں اور اساتذہ کے ورثا اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے آئے ہیں کہ حملے کے منصوبہ سازوں کو انصاف کےکٹہرے میں نہیں لایا گیا اور نیشنل ایکشن پلان میں جو لائحہ عمل بنایا گیا تھا اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔
اس کے جواب میں وزیرخارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں ماضی میں جو کوتاہیاں ہوئیں، وہ اب نہیں ہوں گی۔
’’انہوں نے کہا جہاں تک متاثرین اے پی ایس کے نیشنل ایکشن پلان یا اس کے منصوبہ سازوں کے خلاف کارروائیوں پر عدم اطمینان کا سوال ہے، بہتری کی گنجائش تو ہمیشہ رہتی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور ہمارا حکومتی اتحاد پر عزم ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔ انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا ہے اور ماضی میں اس پلان پر عملدرآمد میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں، وہ اب نہیں ہوں گی۔‘‘
پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات پر ردعمل
وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کے دوران ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے اندر دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی اپنےردعمل میں کہا کہ ٹی ٹی پی کے حملوں کے بارے میں طالبان حکومت سے بات کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ طالبان اپنے وعدے کے مطابق اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
’’ پاکستان اور افغانستان کو طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا ہے۔ پاکستان نے اے پی ایس پر حملے کے بعد عسکریت پسندوں کے خلاف جو آپریشن کیے اس کے بعد صورت حال بہت بہتر ہو گئی تھی۔ کابل میں طالبان کی حکومت کے آنے کے بعد ہم نے دوبارہ کچھ واقعات رونما ہوتے دیکھے ہیں۔ ہم افغانستان کے اندر عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور ہم زور دے رہے ہیں کہ ایسی دہشت گرد کارروائیاں نہ ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت نے بین الاقوامی برادری سے عہد کر رکھا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
’’کوئی بھی افغانستان کو دہشت گردی کا علاقائی مرکز بنتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اور ہم افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق ان دہشت گرد گروپوں سے نمٹنے کو یقینی بنائے۔‘‘
پاکستان کی معیشت اور آئی ایم ایف
وزیرخارجہ سے پاکستان کی معیشت کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔ وائس آف امریکہ کے اس سوال کے جواب میں کہ آیا پاکستان آئی ایم ایف سے معاملات میں امریکہ کی مدد چاہتا ہے جیسا کہ وزیرخارجہ اسحٰق ڈار کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کی جانب سے کوئی تعاون نہیں ہو رہا۔
اس پر بلاول بھٹو نے ہلکے پھلکے انداز میں کہا کہ آئی ایم ایف کے بارے میں بہتر ہے کہ ڈار صاحب سے ہی سوال کیا جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے اعتبار سے یہ پاکستان کیلئے ایک مشکل وقت ہے تاہم انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی معاشی ٹیم اس چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہے۔
’’جہاں تک آئی ایم ایف کا تعلق ہے اور پاکستان کی معیشت کی بات ہے، ہم بالکل مشکل وقت میں ہیں اور ایک امتحان میں ہیں۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ ہم خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور خود وہ فیصلے لے رہے جو ہمارے مفاد میں ہیں۔‘‘
بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم ملک کو مشکلات سے نکالنے میں کافی حد تک کامیاب ہو گئی تھی لیکن سیلاب جیسی بڑی آفت نے صورت حال کو گھمبیر بنا دیا۔
پاکستان کےوزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو خود ہمیں ٹھیک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی جس انداز میں مدد کی جارہی ہے، دنیا بھی اس کو دیکھ رہی ہے۔
’ہم اپنے وسائل سیلاب متاثرین پر خرچ کر رہے ہیں۔ اگر وہ (دنیا کے ممالک) دیکھیں گے کہ ہم اس طریقے سے کام کر رہے ہیں تو زیادہ امکان ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان میں اسرائیلی حملے، بچے سمیت 7 افراد ہلاک، جھڑپیں شدت اختیار کر گئیں
22/June/2026 👁️ 125 بار دیکھا گیا
سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں پیش رفت کے دعوے، مگر ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی
22/June/2026 👁️ 171 بار دیکھا گیا
کریمیا پر یوکرین کا بڑا حملہ، 4 افراد ہلاک، ایندھن کی فروخت معطل
21/June/2026 👁️ 189 بار دیکھا گیا
یورینیم افزودگی سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایرانی صدر پزشکیان
21/June/2026 👁️ 316 بار دیکھا گیا
کراچی میں سی ٹی ڈی کا آپریشن، خودکش بمبار گرفتار، جیکٹ برآمد
21/June/2026 👁️ 126 بار دیکھا گیا
لبنان میں مداخلت نہ رکی تو ایران پر دوبارہ حملہ کرینگے، امریکی صدر ٹرمپ
21/June/2026 👁️ 165 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8846 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4603 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3296 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2468 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2119 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C