13/June/2026

یورپ میں پناہ گزینوں کیلئے نئے سخت قوانین نافذ

👁️ 65 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
یورپ میں پناہ گزینوں کیلئے نئے سخت قوانین نافذ

یورپ میں پناہ گزینوں کیلئے نئے سخت قوانین نافذ

برسلز (ڈیلی اردو) یورپی یونین میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن سے متعلق اصلاحات کا نیا نظام آج بارہ جون بروز جمعہ سے نافذ ہو گیا، جس کا مقصد بیرونی سرحدوں پر نگرانی سخت کرنا، پناہ کی درخواستوں پر تیز رفتار فیصلے کرنا اور غیر قانونی نقل مکانی روکنا ہے۔

 

’’مشترکہ یورپی پناہ گزین نظام‘‘ (سی ای اے ایس) کے نام سے معروف یہ اصلاحات کئی برسوں کے مذاکرات کے بعد منظور کی گئی تھیں۔

 

 نئے قواعد کے تحت ایسے افراد جن کی پناہ کی درخواست منظور ہونے کے امکانات کم ہوں گے، انہیں تیز رفتار طریقہ کار سے گزارا جائے گا، جس کی مدت زیادہ سے زیادہ 12 ہفتے ہوگی۔

 

اس دوران درخواست گزاروں کو یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر قائم خصوصی مراکز میں رکھا جا سکتا ہے، جن کا مقصد درخواستوں کی جانچ اور ممکنہ ملک بدری کے عمل کو تیز بنانا ہے۔

 

نئے نظام کا ایک اہم ہدف ’’ثانوی نقل مکانی‘‘ کو روکنا ہے، یعنی ایسے پناہ گزین جو کسی ایک یورپی ملک میں رجسٹریشن کے بعد اپنی مرضی سے دوسرے رکن ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔

 

اصلاحات کے تحت یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر واقع ممالک، جیسے یونان اور اٹلی، کو مہاجرین کے بوجھ سے تنہا نہیں نمٹنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک ’’یکجہتی نظام‘‘ متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت دیگر رکن ممالک مالی امداد، عملی تعاون یا پناہ گزینوں کی منتقلی کے ذریعے بوجھ بانٹ سکیں گے۔

 

جرمنی کو رواں سال اس مقصد کے لیے قائم مشترکہ فنڈ میں اضافی رقم ادا نہیں کرنا پڑے گی، کیونکہ دیگر ممالک کے حصے کے متعدد پناہ گزین پہلے ہی جرمنی میں پناہ حاصل کر چکے ہیں، جسے اس کی ذمہ داریوں میں شمار کیا گیا ہے

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C