15/April/2026

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر معاشی دباؤ میں شدید اضافہ

👁️ 226 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر معاشی دباؤ میں شدید اضافہ

آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی، ایران پر معاشی دباؤ میں شدید اضافہ

ڈیلی اردو/روئٹرز/اے ایف پی/اے پی/ڈی پی اے)  خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران پر اقتصادی اور مالیاتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ ایران اب تک جتنا بھی تیل برآمد کر پاتا ہے، اس کے رک جانے سے تہران کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ معطل ہو جائے گا۔

 

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کے فضائی حملوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں جس جنگ کا آغاز ہوا تھا، وہ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم اس میں دو ہفتے کی فائر بندی ابھی جاری ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین گزشتہ ہفتے کے روز پاکستان ہی کی ثالثی کوششوں کے نتیجے میں جو مذاکرات ہوئے تھے، ان کے بے نتیجہ اختتام کے دو دن بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل پیر 13 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ ان کے حکم پر امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں تمام ایرانی بندرگاہوں کو عملی طور پر بلاک کر دیا ہے۔

 

ایران پر مذاکرات کی میز پر واپسی کے لیے دباؤ

اس بلاکیڈ کے تحت آبنائے ہرمز کو جانے والے اور وہاں سے آنے والے تمام مال بردار بحری جہازوں کی نگرانی کی جائے گی اور تیل کی برآمدات کی حد تک یہ عمل امریکہ کی طرف سے ایران کی بحری ناکہ بندی ہی ہے۔

 

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام کا مقصد تہران میں ملکی قیادت پر اس مقصد کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ کرنا ہے کہ ایران دوبارہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لوٹ آئے۔

 

اس امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران پر، جو پہلے ہی پابندیوں کی وجہ سے اپنا تیل دیگر ممالک کی طرح آسانی سے برآمد نہیں کر سکتا، اقتصادی اور مالی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر یہ ناکہ بندی کافی عرصے تک جاری رہی، تو ایران کے لیے اسے ابھی تک دستیاب اس مالی آمدنی کا ذریعہ بھی غیر فعال ہو جائے گا، جس کی اسے اشد ضرورت ہے۔

 

ایرانی تیل کی یومیہ برآمدات تقریباﹰ دو ملین بیرل

ایران اب بھی یومیہ بنیادوں پر اپنا تقریباﹰ دو ملین بیرل تیل برآمد کرتا ہے۔ 

 

امریکی حکام کے مطابق ایرانی بندرگاہوں کو بلاک کر کے امریکہ  ایران کو حاصل اس برتر اسٹریٹیجک پوزیشن کو ختم کرنا چاہتا ہے، جو اسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور بحری مال برداری کو زیادہ تر روک دینے سے حاصل ہوئی ہے۔

 

امریکی نیوی نے آبنائے ہرمز کو اس لیے بھی بلاک کیا ہے کہ ایران کو ٹول ٹیکس کے طور پر اس تنگ سمندری راستے سے گزرنے والے مال بردار بحری جہازوں سے مالی وصولی  سے روکا جا سکے۔

 

کچھ میڈیا رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے کارگو بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے لیے مبینہ طور پر دو ملین ڈالر (1.71 ملین یورو)  فی جہاز وصول کر رہا ہے، جو بظاہر بہت بڑی رقم ہے۔

 

دنیا بھر کو خام تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز اس لیے کلیدی اہمیت کی حامل ہے کہ عالمی منڈیوں کو تیل اور گیس کی سپلائی کا تقریباﹰ پانچواں حصہ اسے آبنائے سے ہو کر گزرتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C