30/May/2026

اسرائیلی افواج دریائے لیطانی عبور کر گئیں، غزہ میں 70 فیصد کنٹرول ہدف

👁️ 301 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیلی افواج دریائے لیطانی عبور کر گئیں، غزہ میں 70 فیصد کنٹرول ہدف

اسرائیلی افواج دریائے لیطانی عبور کر گئیں، غزہ میں 70 فیصد کنٹرول ہدف

یروشلم (ڈیلی اردو/اے پی/اے ایف پی/روئٹرز )

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو  نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج لبنان میں دریائے لیطانی کو عبور کر چکی ہیں، جو دونوں ممالک کی سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔

 

نیتن یاہو نے سرحد کے قریب فوجی دستوں کے دورے کے دوران جاری کی گئی ایک ویڈیو میں کہا کہ اسرائیلی فوج نے ’’اپنی کمانڈ میں موجود علاقہ مزید آگے تک پھیلا دیا ہے،‘‘ اور بیروت، وادی بقاع اور پورے محاذ پر کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج حزب اللہ کے خلاف براہ راست کارروائیاں کر رہی ہیں۔

 

نیتن یاہو نے اس پیشرفت کا اعلان ایک ایسے موقع پر کیا ہے، جب اسرائیل اور لبنان کے عسکری حکام آج بروز جمعہ واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) میں سکیورٹی مذاکرات کریں گے۔ یہ بات چیت بڑھتی ہوئی سرحدی کشیدگی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں اضافے کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔

 

امریکی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات حالیہ تنازعے کے آغاز  کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہ راست سکیورٹی بات چیت ہوں گے۔ اس کے علاوہ اگلے ہفتے مزید وسیع مذاکرات کے چوتھے دور کی بھی توقع ہے۔

 

پینٹاگون میں ملاقات سے ایک روز قبل اسرائیلی فضائی حملوں میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور جنوبی شہر صور کو نشانہ بنایا گیا، جس میں لبنانی حکام کے مطابق کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے۔

 

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی اور مشرقی لبنان میں حزب اللہ کے 135 سے زائد اہداف کو نشانہ  بنایا، جن میں راکٹ لانچنگ سائٹس اور عسکری تنصیبات شامل ہیں۔

 

اسرائیلی حکومت کے ترجمان کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے ملکی فوج کو لبنان میں کارروائیاں ’’مزید گہری‘‘ کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ ساتھ ہی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور امن معاہدے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

 

نیتن یاہو اس سے قبل اس ہفتے حزب اللہ کو ’’کچلنے‘‘ کا عزم ظاہر کر چکے ہیں۔

 

دوسری جانب حزب اللہ نے ان مذاکرات کو مسترد کرتے  ہوئے لبنان کی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’’اپنے عوام کے خون کی قیمت پر بات چیت‘‘ کر رہی ہے۔ حزب اللہ کے مطابق بیروت کے پاس اتنی طاقت نہیں کہ وہ اسرائیلی افواج کو پیچھے ہٹا سکے یا جنگ ختم کرا سکے۔

 

نیتن یاہو کا غزہ کے 70 فیصد علاقے پر اسرائیلی قبضہ قائم کرنے کا اعلان

 

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو  نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ پٹی پر اپنا کنٹرول مزید سخت کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

 

مقبوضہ مغربی کنارے میں منعقدہ وادی اردن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اس وقت اسرائیل غزہ پٹی کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم پہلے 50 فیصد پر تھے، اب 60 فیصد پر ہیں۔‘‘ 

 

نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل کا ہدف غزہ کے 70 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کرنا ہے تاکہ فلسطینی تنظیم حماس پر مزید دباؤ ڈالا جا سکے۔

 

انہوں نے کہا، ’’سب سے اہم بات اپنی طاقت کو مسلسل بروئے کار لانا اور اسے مزید بڑھانا ہے۔‘‘

 

دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ غزہ پٹی سے فلسطینیوں کی ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرے گا۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ یہ عمل ’’مناسب وقت پر اور مناسب طریقے سے‘‘ مکمل کیا جائے گا۔

 

انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی کسی بھی ممکنہ نقل مکانی کو جبری بے دخلی یا نسلی تطہیر  کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C