03/October/2025

اسلام آباد پریس کلب میں پولیسں کا صحافیوں پر شدید تشدد، توڑ پھوڑ

👁️ 456 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد پریس کلب میں پولیسں کا صحافیوں پر شدید تشدد، توڑ پھوڑ

اسلام آباد پریس کلب میں پولیسں کا صحافیوں پر شدید تشدد، توڑ پھوڑ

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی/ڈان نیوز) وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں قائم نیشنل پریس کلب میں جمعرات کے روز اسلام آباد پولیس نے داخل ہوکر کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ کی اور وہاں موجود صحافیوں اور دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

 

نیشنل پریس کلب میں پیش آنے والے اس واقعے کی اب تک سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے اہلکار نیشنل پریس کلب کے اندر صحافیوں کو دھکے دے رہے ہیں جبکہ کُچھ اہلکار پریس کلب کے کیفے ٹیریا میں توڑپھور کر رہے ہیں۔

 

نیشنل پریس کلب کے سنیِئر جوائنٹ سیکریٹری سید گردیزی نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ ’پریس کلب کے باہر عوامی ایکشن کمیٹی کے حامی مظاہرین احتجاج کر رہے تھے اور اسی وقت اسلام آباد پولیس کے اہلکار وہاں پہنچے اور انھوں نے وہاں صحافیوں کے کیمرے اور موبائل فون چھیننے کی بھی کوشش کی۔‘

 

انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے بعد پولیس اہلکار پریس کلب کے اندر داخل ہوئے اور وہاں انھوں نے کوریج پر مامور صحافیوں اور دیگر افراد کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور توڑ پھوڑ کی۔‘

 

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

 

وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تشدد کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’صحافی برادری پر تشدد کسی صورت برداشت نہیں۔ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کا تعین کر کے انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

 

دوسری جانب پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کے ہمراہ بات کرتے ہوئے وزیر مُملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ وہ اس واقعے پر معذرت خواہ ہیں اور اس کی انکوائری کا حکم بھی دیا جا چُکا ہے۔

واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے اُن کا دعویٰ تھا کہ کُچھ افراد نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ پریس کلب کے باہر ہاتھا پائی کی تھی اور پولیس اُن ہی کا پیچھا کرتے ہوئے پریس کلب میں داخل ہوئی تھی۔

 

پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے عہدیداروں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی تو انھیں بھی مارا گیا۔‘

 

اسلام آباد پریس کلب میں پولیس اہلکاروں کے زبردستی گھسنے، صحافیوں اور ملازمین پر تشدد کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ہم نے مارشل لا، ایمرجنسی اور ایمرجنسی پلس دیکھی، اُس دور میں بھی ایسے واقعات نہیں ہوتے تھے۔

 

پولیس یا ریاستی اداروں کو مطلوب شخص اگر پریس کلب کے اندر آجائے تو قانون نافذ کرنے والے اہلکار باہر کھڑے رہتے تھے، تاکہ مطلوبہ شخص باہر نکلے اور وہ قانونی کارروائی مکمل کریں۔

 

انہوں نےکہا کہ آج کا یہ واقعہ معمولی نہیں بلکہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقعہ ہے، وفاقی پولیس کے اہلکاروں نے پریس کلب کے اندر داخل ہو کر املاک کو نقصان پہنچایا، کچن میں گھس کر برتن توڑے، اس دوران وہاں موجود فوٹو گرافرز او ویڈیو جرنلسٹس پر تشدد کرتے رہے۔

 

افضل بٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں نے بات کرنے کے بجائے کلب انتظامیہ اور عہدے داروں پر ہی تشدد شروع کر دیا۔

 

صدر پی ایف یو جے نے مزید کہا کہ ہمارے لوگوں نے مذکورہ اہلکاروں کو روکنے کی کوشش کی تو ان پر اور کلب ملازمین پر بھی تشدد کیا گیا، جبکہ تشدد کرنے والے اہلکار جاتے ہوئے 2 ملازمین کو بھی گرفتار کر کے ساتھ لے گئے، جنہیں بعد میں چھڑوا لیا گیا۔

 

افضل بٹ کا کہنا تھا کہ افسوس ناک واقعے کے خلاف ہنگامی اجلاس کی کال دی ہے، مشاورت کے ساتھ مستقبل کا لاٗئحہ عمل اور تشدد میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف حکومتی کارروائی پر بات کریں گے، پریس کلب کے اس بدترین واقعے پر آنکھیں بند کر دیں تو دیگر شہروں میں بھی ایسے واقعات ہو سکتے ہیں۔

صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے مزید کہا کہ پریس کلب صحافیوں کا دوسرا گھر ہوتا ہے، اہلکار ہمارے گھر میں گھسں کر توڑ پھوڑ اور تشدد کریں، اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

 

اس موقع پر وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نےکہا کہ اس واقعے پر ہم غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے انٹرنل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

 

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ کشمیر ایکشن کمیٹی کے کچھ لوگ احتجاج کر رہے تھے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار ان کا پیچھا کرتے ہوئے کلب پہنچے۔

قبل ازیں، آزاد کشمیر میں تشدد کیخلاف چند مظاہرین نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کر رہے تھے، پولیس اہلکاروں کے وہاں پہنچنے پر کچھ مظاہرین پریس کلب کے اندر چلے گئے، جنہیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس اہلکار بھی زبردستی نیشنل پریس کلب کے اندر گھس گئی۔

 

اس دوران اسلام آباد پولیس اہلکاروں نے نہ صرف مظاہرین کو گرفتار کیا بلکہ اندر موجود صحافیوں اور کلب ملازمین پر بھی تشدد کیا اور ایک فوٹو گرافر کا کیمرا بھی توڑ دیا جبکہ پولیس اہلکاروں نے کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ بھی کی۔

 

صحافتی تنظیموں سی پی این ای، پی ایف یو جے اور ایمینڈ  نے اسلام آباد پریس کلب  پر  پولیس کے دھاوے کی مذمت کرتے ہوئے اسے  دہشت گردی قرار دے دیا ۔

صحافتی تنظیموں کی جانب سے جاری  مشترکہ بیان میں کہا گیا ہےکہ  یہ صحافیوں کے خلاف کئی روز  سے جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ ملوث اہل کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

 

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ  صحافیوں کی کردار کشی، انہیں دباؤ میں لانے  اور  اظہار رائے سلب کرن کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے، صحافیوں کے خلاف اقدامات پر آئینی و قانونی جدوجہد کا ہر آپشن استعمال کریں گے۔

 

پس منظر

 

آزاد جموں و کشمیر میں پیر (29 ستمبر) سے مخالف گروہوں کے مظاہروں کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔

 

ڈان نیوز کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت میں پیر کو کم از کم ایک شخص جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار سمیت درجنوں افراد زخمی ہوگئے تھے، جبکہ خطے میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران مواصلاتی نظام بھی معطل رہا تھا۔

 

یہ ہڑتال جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے کے جے اے اے سی) نے اپنے مطالبات نہ ماننے پر کی تھی، اس دوران مختلف گروہوں نے بیک وقت مظاہرے کیے اور ایک دوسرے پر پرامن احتجاج کے دوران تشدد کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

اتوار کو دوپہر سے آزاد جموں و کشمیر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

 

ہلاکتیں نیلم پُل کے قریب دوپہر کے بعد اس وقت ہوئی تھیں، جب مسلم کانفرنس کے رہنما راجا ثاقب مجید کی قیادت میں نکالی جانے والی امن ریلی کا تصادم جے کے جے اے اے سی کے مظاہرین سے ہوگیا تھا۔

بعد ازاں، وفاقی حکومت اور آزاد و جموں و کشمیر کی حکومت نے احتجاجی مظاہرین کو مذاکرات کی بحالی کی دعوت دی تھی، تاکہ جاری بدامنی کو کم کیا جا سکے، جس کے دوران بدھ کو 3 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

 

3 روزہ شٹر ڈاؤن ہڑتال کے دوران مواصلاتی بلیک آؤٹ نے آزاد کشمیر کو مفلوج کر دیا تھا، کیونکہ مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) اپنے مطالبات پر بضد ہے، پچھلے ہفتے عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی وزرا کے ساتھ مذاکرات کے دوران اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کے لیے مخصوص نشستوں سے سے متعلق شرائط پر ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C