21/February/2026

افغان طالبان کا نیا تعزیری ضابطہ، شوہر کو بیوی پر تشدد کی مشروط اجازت

👁️ 172 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغان طالبان کا نیا تعزیری ضابطہ، شوہر کو بیوی پر تشدد کی مشروط اجازت

افغان طالبان کا نیا تعزیری ضابطہ، شوہر کو بیوی پر تشدد کی مشروط اجازت

کابل (ڈیلی اردو) افغان طالبان نے ایک نیا تعزیری ضابطہ متعارف کرایا ہے جس کے تحت شوہر کو بیوی اور بچوں کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ تشدد سے ہڈیاں نہ ٹوٹیں یا کھلے زخم نہ آئیں۔ ساٹھ صفحات پر مشتمل یہ دستاویز، جو ایک برطانوی اخبار کو موصول ہوئی، طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دستخط کر کے ملک بھر کی عدالتوں میں بھجوا دی ہے۔

 

اس ضابطے کے تحت بیوی کو مارنا تعزیر کے زمرے میں رکھا گیا ہے، یعنی یہ فوجداری جرم نہیں بلکہ صوابدیدی سزا ہے۔ شوہر اس وقت تک جسمانی طاقت استعمال کر سکتا ہے جب تک چوٹیں قانون میں مقررہ حد تک نہ پہنچیں۔ اگر چوٹ ثابت ہو جائے تو جج زیادہ سے زیادہ 15 دن قید کی سزا دے سکتا ہے۔

 

آرٹیکل 32 میں کہا گیا ہے کہ اگر شوہر بیوی کو شدید مارے، جس سے ہڈی ٹوٹ جائے، زخم آئے یا جسم پر واضح نیل پڑے، اور بیوی عدالت میں یہ ثابت کر دے، تو شوہر مجرم قرار پائے گا اور جج اسے 15 دن قید کی سزا سنائے گا۔

 

شکایت درج کرانے کے لیے خاتون کو مرد جج کے سامنے پیش ہونا ہوگا، مکمل پردہ کرنا ہوگا اور کسی مرد سرپرست کے ساتھ آنا ہوگا۔

 

قانون ان خواتین سے بھی نمٹتا ہے جو تشدد سے بچنے کے لیے گھر چھوڑنے کی کوشش کریں۔ آرٹیکل 34 کے مطابق اگر کوئی عورت شوہر کی اجازت کے بغیر والدین کے گھر جائے تو اسے تین ماہ تک قید ہو سکتی ہے۔ جو رشتہ دار اسے پناہ دیں، انہیں بھی یہی سزا دی جا سکتی ہے، چاہے وہ تشدد سے بچ کر آئی ہو۔

 

آرٹیکل 9 کے تحت افغان معاشرے کو چار طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے: علما، اشرافیہ، متوسط طبقہ اور نچلا طبقہ۔ ایک ہی جرم کی سزا سماجی حیثیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے، جو نصیحت سے لے کر قید اور جسمانی سزا تک ہو سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C