افغانستان میں شیعہ برادری کے مذہبی و سماجی مراکز پر پابندیاں، طالبان کی پالیسی پر تشویش
👁️ 138 بار دیکھا گیا
افغانستان میں شیعہ برادری کے مذہبی و سماجی مراکز پر پابندیاں، طالبان کی پالیسی پر تشویش
کابل(ڈیلی اردو) افغانستان میں شیعہ برادری سے وابستہ مذہبی، ثقافتی، تعلیمی اور طبی مراکز کی مسلسل بندش نے ملک میں مذہبی آزادی اور شہری حقوق سے متعلق نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ افغانستان کے ذرائع کے مطابق کابل میں متعدد مراکز کی بندش کے ساتھ ساتھ شیعہ برادری کے بڑے مذہبی و سماجی اداروں پر پہلے سے عائد پابندیوں نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ مذہبی اقلیتوں کی سماجی اور مذہبی سرگرمیوں کا دائرہ محدود کیا جارہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مغربی کابل میں تبیان مرکز اور فاطمہ الزہرا کلینک سمیت بعض اداروں کو بند کیے جانے کے علاوہ خاتم النبیین اور خاتم الانبیاء جیسے بڑے مراکز سے متعلق بھی ماضی میں مختلف نوعیت کی پابندیاں اور دباؤ سامنے آتے رہے ہیں۔ یہ ادارے طویل عرصے سے شیعہ برادری کے لیے مذہبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، ثقافتی سرگرمیوں اور سماجی خدمات کا ذریعہ رہے ہیں۔
افغان طالبان کی جانب سے ان اقدامات کی وجوہات کے حوالے سے اب تک کوئی جامع اور واضح قانونی وضاحت سامنے نہ آنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض معاملات میں زمین کی ملکیت سے متعلق اعتراضات جبکہ کچھ دیگر کیسز میں حکومتی پالیسیوں سے متصادم سرگرمیوں کے الزامات کا حوالہ دیا گیا، تاہم متاثرہ اداروں اور عوام کے لیے متعلقہ قانونی دستاویزات یا عدالتی کارروائی کی مکمل تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی مذہبی، تعلیمی یا ثقافتی ادارے کو بند کرنے کے لیے شفاف طریقہ کار، واضح قانونی بنیاد اور متاثرہ فریق کو اعتراض یا اپیل کا موقع فراہم کرنا اہم سمجھا جاتا ہے۔ ایسے اقدامات میں وضاحت کی کمی سے یہ خدشات پیدا ہوسکتے ہیں کہ کارروائی صرف انتظامی نوعیت کی نہیں بلکہ کسی مخصوص مذہبی برادری کی سماجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔
ماہرین کے حوالے سے رپورٹ میں یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ مذہبی اور ثقافتی ادارے صرف عبادت یا مذہبی تعلیم تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ معاشرے میں سماجی روابط، تعلیم، صحت، باہمی تعاون اور مختلف طبقات کے درمیان رابطے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے اداروں کی کمزوری سے متاثرہ برادری میں عدم اعتماد اور سماجی تنہائی کا احساس بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
افغانستان کی شیعہ برادری ملک کے تاریخی، ثقافتی اور سماجی ڈھانچے کا حصہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس برادری سے وابستہ اداروں کی مسلسل بندش یا سرگرمیوں میں کمی سے مذہبی تنوع، شہری حقوق اور سماجی ہم آہنگی کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں موجودہ صورتحال کو ایک ایسی پالیسی کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس کے تحت شیعہ برادری کی مذہبی اور سماجی موجودگی بتدریج محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ اس میں طالبان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مذہبی اور سماجی اداروں سے متعلق فیصلوں میں قانونی شفافیت اختیار کی جائے، متعلقہ فریقوں کو وضاحت اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیا جائے اور افغانستان میں موجود مختلف مذہبی و سماجی طبقات کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
اورکزئی میں پولیس اور سکاؤٹس کی مشترکہ کارروائی، 10 دہشتگرد ہلاک
16/October/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں ساتھ دے گا، شہباز شریف
16/October/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
خیبر کی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک، 8 زخمی
16/October/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
کوہاٹ پولیس لائنز خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت، لکی مروت میں مبینہ سہولت کار کمانڈر ہلاک
16/October/2026 👁️ 60 بار دیکھا گیا
پشاور: حسن خیل میں پولیس پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، ایک اہلکار ہلاک، 3 زخمی
16/October/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان: امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن دباؤ قبول نہیں کریں گے
16/October/2026 👁️ 88 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
ٹرمپ کا ایران کو آخری الٹی میٹم، ڈیل نہ ہوئی تو تباہ کن کارروائی کی دھمکی
04/August/2026 👁️ 26378 بار دیکھا گیاایران میں موساد کیلئے جاسوسی کا الزام، دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
04/August/2026 👁️ 15615 بار دیکھا گیاحوثیوں کا سعودی عرب کے نجران ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ
05/August/2026 👁️ 11909 بار دیکھا گیاجنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 9257 بار دیکھا گیایمن میں حوثی باغیوں کے میزائل اور ڈرون حملے، 36 فوجی اہلکار ہلاک
07/August/2026 👁️ 7517 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 5460 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C