31/August/2025

امریکا: ٹیکساس میں چین، ایران، شمالی کوریا اور روسی شہریوں پر جائیداد پابندی

👁️ 389 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکا: ٹیکساس میں چین، ایران، شمالی کوریا اور روسی شہریوں پر جائیداد پابندی

امریکا: ٹیکساس میں چین، ایران، شمالی کوریا اور روسی شہریوں پر جائیداد پابندی

ٹیکساس (ڈیلی اردو/بی بی سی) امریکی ریاست ٹیکساس میں جیسن یوآن، جو ایک پرانی گاڑیوں کی دکان کے مالک ہیں، اپنی روزمرہ زندگی کے معمولات میں مصروف تھے کہ ایک نئے ریاستی قانون ایس بی 17 نے ان کی فکر میں اضافہ کر دیا۔ یوآن، جو چین کی شہریت ترک کر کے امریکی شہری بن چکے ہیں، اب ٹیکساس میں جائیداد خریدنے یا کرائے پر لینے کے لیے محدود ہو جائیں گے۔

 

نئے قانون کے تحت یکم ستمبر سے چین، شمالی کوریا، روس اور ایران سے تعلق رکھنے والے افراد اور کمپنیاں ٹیکساس میں مکانات، تجارتی جگہ اور زرعی زمین خریدنے یا کرائے پر لینے سے محروم ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریاست کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے، لیکن ناقدین اسے امتیازی اور ایشیا مخالف قرار دے رہے ہیں۔

 

ٹیکساس سے ڈیموکریٹ نمائندہ جینی وو نے کہا، "یہ قانون خاص طور پر چینی نژاد امریکیوں کے لیے غیر منصفانہ ہے اور کاروباری مواقع کو نقصان پہنچائے گا۔" وکیل کنلن لی نے بھی کہا، “اگر انسانی حقوق کی کوئی حفاظت نہیں، تو ہم 150 سال پرانی امتیازی پالیسیوں کی طرف واپس جا رہے ہیں۔”

 

یوآن نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کو بتایا کہ قانون کے تحت اپنے آبائی ملک کی وجہ سے پابندی لگانا غیر منصفانہ ہے۔ وہ اپنے دو بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں اور اس پابندی کے خلاف ریلیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ یوآن نے کہا، “ضروری ہے کہ ہم احتجاج کریں اور اپنے بچوں کو سکھائیں کہ امتیازی سلوک کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے۔”

 

اس قانون سے نہ صرف ذاتی شہری بلکہ چین، ایران، شمالی کوریا اور روس سے وابستہ کاروبار بھی متاثر ہوں گے۔ سنہ 2011 سے 2021 کے دوران چین کی 34 کمپنیوں نے ٹیکساس میں 2.7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور 4,500 سے زائد ملازمتیں پیدا کیں۔ اب کمپنیاں متبادل مواقع تلاش کر رہی ہیں، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں اور سولر پینل کے شعبوں میں۔

 

ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے۔ تاہم، سول لیبرٹی یونین فاؤنڈیشن کے پیٹرک ٹومے کا کہنا ہے کہ “قانون کی بنیاد جھوٹے دعووں پر رکھی گئی ہے اور اس سے امریکی جمہوری اقدار کو خطرہ لاحق ہے۔”

 

یہ قانون تاریخی تناظر میں بھی اہم ہے۔ امریکہ میں 1882 میں منظور ہونے والے چینی اخراج ایکٹ کے بعد، چینی نژاد افراد کے لیے زمین اور جائیداد کی ملکیت محدود رہی۔ ٹیکساس میں زمین کے حوالے سے ایک سابقہ قانون کے تحت سنہ 1965 تک غیر ملکی شہری جائیداد نہیں خرید سکتے تھے، جسے ’نامعقول اور امتیازی‘ قرار دیا گیا تھا۔

 

یوآن کا موقف ہے کہ اگر کمیونٹی نے قانون کے خلاف آواز بلند نہ کی تو یہ قانون دیگر ریاستوں میں بھی نافذ ہو سکتا ہے اور امریکی جمہوریت کی بنیادی اقدار کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ جمہوریت کے اصولوں کو دوبارہ لکھنے کی کوشش ہے، لیکن ہمارے پاس موقع ہے کہ ہم اسے بدل دیں۔”

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C