05/February/2026

ایران مذاکرات میں، جوہری، میزائل پروگرام اور مظاہرین پر بات ناگزیر، مارکو روبیو

👁️ 245 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران مذاکرات میں، جوہری، میزائل پروگرام اور مظاہرین پر بات ناگزیر، مارکو روبیو

ایران مذاکرات میں، جوہری، میزائل پروگرام اور مظاہرین پر بات ناگزیر، مارکو روبیو

واشنگٹن (ڈیلی اردو) امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم کسی بھی بامعنی نتیجے پر پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ان مذاکرات میں جوہری پروگرام کے علاوہ ایرانی حکومت کے میزائل پروگرام اور مظاہرین کے ساتھ اس کے سلوک جیسے مسائل پر بھی بات ہو۔

 

رپورٹس کے مطابق، ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امریکی موقف کے بارے میں سوال کے جواب میں روبیو کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں مذاکرات سے حقیقتاً معنی خیز ننائج حاصل کرنے کے لیے کچھ چیزوں پر بات کرنا ضروری ہے جیسے کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی رینج، خطے میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے ان کی حمایت اور جوہری پروگرام کے علاوہ ان کا اپنے لوگوں کے ساتھ برتاؤ۔‘

 

روبیو کے مطابق انھیں ایران کے ساتھ مذاکرات سے خاطرخواہ نتائج کی امید نہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’مجھے یقین نہیں کہ ہم ان کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن بہرحال ہم کوشش کریں گے اور دیکھیں گے۔‘

 

روسی موقف

 

روسی وزارت خارجہ نے بُدھ کے روز کہا ہے کہ امریکی خدشات کو کم کرنے کے معاہدے کے تحت ایران سے یورینیئم واپس لینے کی تجویز ابھی بھی میز پر ہے۔ لیکن اب تہران کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔‘

 

دو روز قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹریٹ میں خارجہ پالیسی کے نائب علی باقری نے کہا تھا کہ ’ایرانی حکام کا کسی بھی ملک کو افزودہ جوہری مواد کی منتقلی کا کوئی ارادہ نہیں ہے، اور مذاکرات ایسے کسی مسئلے کے بارے میں بالکل نہیں ہیں۔‘

 

یہ ریمارکس کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے روس میں ایرانی افزودہ یورینیئم کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں تہران اور واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے کیے گئے تبصروں کے جواب میں ہیں کہ ’یہ مسئلہ کافی عرصے سے ایجنڈے پر ہے۔‘

 

150 طلبہ ہلاک

 

ادھر ایرانی ٹیچرز یونینز کی رابطہ کونسل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں میں 150 طلبہ ہلاک ہوئے ہیں۔

 

تنظیم نے اعلان کیا کہ ایک سو پچاس خالی بینچز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک سے کیا چھین لیا گیا ہے۔ جینے کا امکان، سیکھنے کا حق، اور بغیر کسی خوف کے بڑھنے کا حق چھین لیا گیا ہے۔ یہ بچے مارے گئے، لیکن اس سے پہلے، انھیں کئی بار مٹا دیا گیا، سکول سے، گلی سے، سرکاری بیانیے سے، اور اس یاد سے جسے حکومت کنٹرول کرنا چاہتی تھی۔‘

 

کونسل نے کہا ہے کہ ’جب تک یہ بنچ خالی ہیں، کوئی روشن مستقبل نہیں ہے۔‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C