19/January/2026

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 5 ہزار افراد ہلاک، 500 سکیورٹی اہلکار بھی شامل

👁️ 221 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 5 ہزار افراد ہلاک، 500 سکیورٹی اہلکار بھی شامل

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 5 ہزار افراد ہلاک، 500 سکیورٹی اہلکار بھی شامل

برسلز (ڈیلی اردو) ایک ایرانی اہلکار کے مطابق ایران میں کئی روز سے جاری حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد کم ازکم 5 ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن میں تقریباً 500 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ یہ بات اتوار 18 جنوری کو سامنے آئی۔

 

ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مہنگائی اور ملکی معیشت کی خراب صورتِ حال کے خلاف شروع ہونے والے عوامی احتجاج نے بعد ازاں حکومت مخالف ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر لی، جس کے دوران کم ازکم 5 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

 

تاہم اس اہلکار کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اپنے سرکاری فرائض ایران کے اندر انجام دے رہا ہے یا بیرونِ ملک۔

ایرانی اہلکار نے ان ہلاکتوں کا ذمے دار ’’دہشت گردوں اور مسلح فسادیوں‘‘ کو قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ عناصر ’’معصوم ایرانی شہریوں کو ہلاک‘‘ کرتے رہے اور انہیں بیرونِ ملک سے مدد حاصل تھی۔

 

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے حالیہ حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کے ہلاک ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ان ہلاکتوں کا ذمے دار امریکا کو قرار دیا ہے۔

 

ہفتے کے روز اپنے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ مظاہروں کے دوران ہونے والی بعض ہلاکتیں ’’انسانیت سوز اور ظالمانہ انداز‘‘ میں ہوئیں، جن کے پیچھے امریکا اور اسرائیل سے وابستہ عناصر کا کردار ہے۔

 

کرد علاقوں میں سب سے زیادہ جھڑپیں اور ہلاکتیں

 

اہلکار کے مطابق احتجاجی مظاہروں اور خونریز بدامنی کے دوران سب سے زیادہ جھڑپیں اور ہلاکتیں شمال مغربی ایران کے کرد اکثریتی علاقوں میں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے گزشتہ کئی دہائیوں میں ایران کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ ہلاکتوں والی حکومت مخالف تحریک ثابت ہوئے۔

 

ایرانی کرد علاقے ماضی سے علیحدگی پسند سرگرمیوں کا مرکز رہے ہیں، جہاں بدامنی کی صورت میں صورتحال نسبتاً زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔

 

اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ’’موجودہ اعداد و شمار کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مستقبل میں کسی بڑے اضافے کا امکان نہیں۔‘‘

 

انسانی حقوق تنظیموں کے اعداد و شمار

 

دوسری جانب، امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 3,308 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 4,382 مزید اموات کے کیسز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

 

تنظیم نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مظاہروں کے دوران ایرانی حکام نے 24 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔

 

ادھر ناروے میں قائم ایرانی کردوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’ہنگاو‘ نے بھی تصدیق کی ہے کہ حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران شدید ترین جھڑپیں شمال مغربی ایران کے کرد علاقوں میں ہی ہوئیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C