15/January/2026

ایران میں مظاہروں کے تناظر میں پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ عراقچی

👁️ 163 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں مظاہروں کے تناظر میں پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ عراقچی

ایران میں مظاہروں کے تناظر میں پھانسیوں کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ عراقچی

واشنگٹن (ڈیلی اردو) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ملک میں حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں گرفتار افراد کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔

 

فوکس نیوز کے پروگرام "اسپیشل رپورٹ ود بریٹ بائر" میں گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا،

“پھانسی دینے کا تو کوئی بھی منصوبہ نہیں ہے۔  میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ آج یا کل کسی کو بھی سزائے موت نہیں دی جائے گی۔”

 

عباس عراقچی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اوول آفس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں "دوسری جانب کے نہایت اہم ذرائع" سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ہلاکتیں رک چکی ہیں اور منصوبہ بند سزائیں نافذ نہیں کی جائیں گی۔

 

تاہم صدر ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے باعث امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر رد بھی نہیں کیا۔

 

اس سے قبل بدھ کے روز ایران کی عدلیہ نے عندیہ دیا تھا کہ ملک بھر میں مظاہروں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف فوری مقدمات چلا کر سزائے موت دی جا سکتی ہیں۔ بعد ازاں ایرانی حکام نے اعلان کیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف مقدمات کو تیز کیا جائے گا اور سزاؤں پر عملدرآمد بھی کیا جائے گا۔

 

دریں اثنا ایران کے سرکاری میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا کہ کرج شہر میں احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے ایک 26 سالہ شخص کو موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔

 

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاؤ نے اطلاع دی تھی کہ کاراج میں مظاہروں کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے 26 سالہ عصام سلطانی کو بدھ کے روز پھانسی دیے جانے کا امکان ہے۔

 

تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق عصام سلطانی پر "ملک کی داخلی سلامتی کے خلاف ملی بھگت اور حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ سرگرمیوں" کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، اور عدالتی ذرائع کے مطابق ان الزامات کے تحت سزائے موت کا اطلاق نہیں ہوتا۔

 

ایران میں کئی ہفتوں سے جاری بدامنی کے دوران اب تک 3,400 سے زائد مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ اسلامی حکومت گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنے اقتدار کو درپیش سب سے بڑے چیلنج کے خلاف سخت کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

پیر کے روز امریکی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایرانی حکام مظاہرین کو قتل کرتے رہے تو امریکہ "نہایت سخت اقدام" کرے گا۔ گزشتہ ہفتے نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نیشنل سکیورٹی کونسل کے حکام نے صدر ٹرمپ کو سفارتی اقدامات سے لے کر فوجی کارروائی تک مختلف آپشنز پر بریفنگ دی تھی۔

 

بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا،"ہم دیکھیں گے کہ یہ عمل کس سمت جاتا ہے"، اور امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو رد کرنے سے گریز کیا۔

 

ایرانی فضائی حدود کی عارضی بندش کے خاتمے کے بعد کچھ پروازیں دوبارہ تہران کی جانب روانہ ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

 

پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق، بندش کی مدت ختم ہونے کے بعد محدود پروازیں ایرانی فضائی حدود میں داخل ہو رہی ہیں۔

 

ایران نے ابتدا میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے نوٹس کے مطابق فضائی حدود شام ساڑھے سات بجے تک بند کرنے کا اعلان کیا تھا، جسے بعد میں بڑھا کر رات 10:30 بجے تک کر دیا گیا۔ اس دوران متعدد ایئرلائنز کو اپنی پروازوں کا رخ تبدیل یا منسوخ کرنا پڑا۔

 

دوسری جانب قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے اور قطر میں موجود امریکی شہریوں کو العدید ایئر بیس کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے، جہاں امریکی فضائیہ سمیت دیگر غیر ملکی افواج بھی تعینات ہیں۔

 

سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ“قطر میں امریکی مشن صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم فی الحال سفارتی عملے، سرگرمیوں یا قونصلر خدمات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔”

 

اس سے قبل بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکہ نے احتیاطی تدابیر کے تحت مشرق وسطیٰ میں واقع اپنے چند فوجی اڈوں سے اہلکاروں کی واپسی شروع کر دی ہے، جن میں قطر بھی شامل ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C